آئندہ بجٹ میں اشیائے خورونوش پر ریلیف کے امکانات محدود

0
3
آئندہ بجٹ میں اشیائے خورونوش پر ریلیف کے امکانات محدود

اسلام آباد: وفاقی حکومت کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوام کو اشیائے خورونوش پر بڑے پیمانے پر ریلیف ملنے کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے بنیادی غذائی اشیاء پر عائد موجودہ سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹیز اور دیگر محصولات برقرار رکھنے پر غور کیا ہے، جس کے باعث روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء کی قیمتوں میں فوری کمی متوقع نہیں۔

اطلاعات کے مطابق محصولات کے اہداف حاصل کرنے کے لیے حکومت بنیادی خوراک اور ادویات پر نافذ ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجویز نہیں دے رہی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں مہنگائی سے متاثرہ صارفین کو قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی، گھی، کوکنگ آئل اور چائے پر 18 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اسی طرح مختلف غذائی اشیاء پر عائد کسٹمز اور دیگر ڈیوٹیز بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔

ادویات پر موجود ایک فیصد سیلز ٹیکس برقرار رکھنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔

درآمدی چکن پر 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی اور 4 فیصد اضافی ڈیوٹی برقرار رہ سکتی ہے، جبکہ انڈوں پر 3 سے 16 فیصد تک کسٹمز ڈیوٹی برقرار رکھنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

سبزیوں میں آلو پر 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ ٹماٹر اور پیاز پر 5 فیصد ڈیوٹی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

اسی طرح گندم اور چاول پر 10 فیصد جبکہ آٹے پر 5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی برقرار رکھنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔

ذرائع کے مطابق ویجیٹیبل آئل اور کوکنگ آئل پر عائد کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز میں بھی بڑی تبدیلی متوقع نہیں، جبکہ خام سویابین اور دیگر خوردنی تیلوں پر موجود ڈیوٹیز برقرار رہنے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس 5 جون کو طلب کر چکی ہے۔

Leave a reply