پاکستان نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کا صومالی لینڈ تسلیم کرنے کا منصوبہ مسترد کر دیا

0
98
پاکستان نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کا صومالی لینڈ تسلیم کرنے کا منصوبہ مسترد کر دیا

اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو آزاد اور خود مختار ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے نے عالمی سطح پر تنازع کھڑا کر دیا ہے، جس پر پاکستان سمیت متعدد ممالک نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ فلسطینی عوام کی ممکنہ جبری بے دخلی بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کے خلاف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان صومالیہ کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور صومالی لینڈ کو علیحدہ ملک تسلیم کرنے کے اسرائیلی اقدام کو مسترد کرتا ہے۔ جدون نے عالمی برادری سے اسرائیل کے اس فیصلے کی مذمت کا مطالبہ بھی کیا۔
صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالی آمر سیاد بری کی حکومت کے خاتمے کے بعد خود کو صومالیہ سے الگ کر لیا تھا۔ اگرچہ وہاں ایک فعال حکومت، پولیس نظام اور اپنی کرنسی موجود ہے، عالمی سطح پر اسے تسلیم نہیں کیا گیا، اور صومالیہ اسے اپنے ملک کا حصہ قرار دیتا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمین نیتن یاہو نے صومالی لینڈ کے صدر سے گفتگو میں کہا کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کا موقع فراہم کرتا ہے، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے اسرائیل کے سیکیورٹی مفادات اور ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے۔
اسرائیل کے اس اقدام کی چین، ترکی، سعودی عرب، افریقی یونین اور دیگر کئی ممالک نے مذمت کی ہے۔ چین نے کہا کہ کوئی ملک اپنے مفادات کے لیے دوسرے ممالک میں علیحدگی پسند قوتوں کی حمایت نہیں کر سکتا۔ افریقی یونین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے دیگر خطوں میں علیحدگی کی تحریکیں زور پکڑ سکتی ہیں، جو پورے براعظم کے لیے عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہیں۔
صومالی لینڈ کے بعض حامی ممالک، جیسے متحدہ عرب امارات اور ایتھوپیا نے ابھی تک واضح موقف اختیار نہیں کیا، جبکہ امریکہ نے فوری پیروی کا اشارہ نہیں دیا۔ مجموعی طور پر اسرائیل کا یہ اقدام مشرقی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں سفارتی اور سیاسی تناؤ بڑھا رہا ہے، جبکہ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق اور صومالیہ کی خود مختاری پر کسی بھی سمجھوتے کے خلاف ہے۔

Leave a reply