
تیز رفتار زندگی میں ذہنی دباؤ اور غیر ضروری سوچ ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق معمولی باتوں پر بار بار غور کرنا، جسے اوورتھنکنگ کہا جاتا ہے، انسان کو ذہنی تھکن، اضطراب اور بے چینی میں مبتلا کر دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حد سے زیادہ سوچنے کا تعلق زیادہ تر ماضی کی غلطیوں یا مستقبل کے خدشات سے ہوتا ہے۔ جب دماغ کسی ایک خیال کے گرد مسلسل گھومتا رہے تو نہ صرف توجہ متاثر ہوتی ہے بلکہ جسمانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ماہرین واضح کرتے ہیں کہ مسئلہ حل کرنے اور بلاوجہ سوچتے رہنے میں فرق ہے۔ تعمیری سوچ مسائل کا حل نکالتی ہے، جبکہ غیر ضروری سوچ انسان کو خوف اور تناؤ کے دائرے میں قید کر دیتی ہے۔
ذہنی دباؤ سے بچنے کے لیے ماہرین چند آسان مگر مؤثر طریقے تجویز کرتے ہیں:
اپنی سوچ کو پہچانیں
سب سے پہلا قدم یہ جاننا ہے کہ آپ ضرورت سے زیادہ سوچ رہے ہیں۔ جیسے ہی اس کا احساس ہو، خود کو روکنے کی کوشش کریں۔ آگاہی ذہن پر قابو پانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
پانچ منٹ کا اصول اپنائیں
کسی پریشان کن خیال کے لیے ایک محدود وقت مقرر کریں۔ خود سے کہیں کہ صرف پانچ منٹ تک اس پر غور کریں، پھر جان بوجھ کر کسی دوسری سرگرمی میں مصروف ہو جائیں۔
حال پر توجہ مرکوز کریں
موجودہ لمحے میں جینے کی عادت ڈالیں۔ سانس کی مشقیں، مراقبہ اور اردگرد کی آوازوں یا احساسات پر توجہ دینا ذہن کو غیر ضروری خیالات سے نجات دلاتا ہے۔
خیالات کو تحریر میں لائیں
دماغ میں گردش کرتے خیالات کو کاغذ پر لکھ لینا ذہنی بوجھ کم کرتا ہے اور سوچ کو منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
کمال پسندی چھوڑ دیں
ماہرین کے مطابق ہر کام میں مکمل ہونے کی ضد ذہنی دباؤ بڑھاتی ہے۔ غلطیاں انسانی فطرت کا حصہ ہیں، اس لیے بہتری پر توجہ دینا زیادہ مفید ہے۔
جسمانی سرگرمی اپنائیں
ورزش، واک، رقص یا کوئی بھی پسندیدہ مشغلہ ذہن کو مصروف رکھتا ہے اور منفی سوچ سے دور لے جاتا ہے۔
مسئلے کے بجائے حل پر غور کریں
اگر اور مگر کی سوچ سے نکل کر عملی حل تلاش کرنے کی عادت ڈالیں، اس سے ذہن بتدریج مثبت سمت میں منتقل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان سادہ عادات کو اپنانے سے نہ صرف اوورتھنکنگ پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ ذہنی سکون اور یکسوئی میں بھی نمایاں بہتری آتی ہے۔









