پولیس کی حکمت عملی، 27 ستمبر کا امتحان

پولیس کی حکمت عملی، 27 ستمبر کا امتحان

تحریر:یونس باٹھ

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال کے بعد ملک بھر میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔ ایسے حالات میں امن و امان برقرار رکھنا پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے، تاہم اس کے ساتھ عوام کو غیر ضروری پریشانی سے بچانا بھی ایک اہم تقاضا ہے۔ موجودہ صورت حال میں پنجاب پولیس، بالخصوص لاہور پولیس کی حکمت عملی پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ سیاسی سرگرمیوں کے دوران شہریوں کی مشکلات کم رکھنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی لاہور آمد کے موقع پر پولیس نے مجموعی طور پر ایسی حکمت عملی اختیار کی جس کے باعث شہریوں کو زیادہ پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ سڑکوں کو غیر ضروری طور پر بند کرنے سے گریز کیا گیا اور پی ٹی آئی کی سٹریٹ موومنٹ کو اپنا سیاسی پروگرام جاری رکھنے کا موقع ملا۔ اس دوران بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے بجائے صورت حال کو نسبتاً متوازن انداز میں سنبھالنے کی کوشش نظر آئی۔ پولیس کی یہ حکمت عملی ادارے کے لیے ایک مثبت پیشرفت اور نیک شگون قرار دی جا سکتی ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں جہاں روزانہ لاکھوں شہری اپنے کاروبار، ملازمتوں، تعلیم اور دیگر ضروری امور کے لیے سفر کرتے ہیں، وہاں سیاسی سرگرمیوں کے دوران ٹریفک اور معمولات زندگی کو برقرار رکھنا ایک مشکل ذمہ داری ہوتی ہے۔ پولیس اگر امن و امان کے ساتھ شہریوں کی آمدورفت کا بھی خیال رکھے تو اس سے عوام اور ادارے کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور محمد امیر کو نقصِ امن کے تحت ایک ماہ کے لیے نظر بند کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس اقدام پر بانی پی ٹی آئی کی دیگر دو بہنوں نے اپر مال پر پریس کانفرنس میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور اسے ناانصافی قرار دیا۔ ایسے معاملات میں انتظامیہ کے لیے امن و امان کا قیام اپنی جگہ اہم ہے، تاہم قانونی کارروائیوں کی شفافیت اور شہریوں کے قانونی حقوق کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح لاہور، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات کے اندراج کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ان معاملات میں پولیس اور انتظامیہ کے لیے ضروری ہوگا کہ قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے غیر ضروری سختی سے گریز کریں، تاکہ عوامی سطح پر بے چینی پیدا نہ ہو۔ پنجاب پولیس کے آئی جی راؤ عبدالکریم اور ان کی ٹیم کے لیے 27 ستمبر کا احتجاج ایک اہم امتحان ہوگا۔ لاہور میں حالیہ سیاسی سرگرمی کے دوران اختیار کی گئی نسبتاً متوازن حکمت عملی کو آئندہ بھی برقرار رکھنا ضروری ہے۔ احتجاج کے موقع پر پولیس کو چاہیے کہ وہ سڑکوں کی مکمل بندش کے بجائے متبادل راستوں، ٹریفک مینجمنٹ اور محدود حفاظتی اقدامات پر توجہ دے، جہاں حالات اس کی اجازت دیں۔اس احتجاج کے اثرات صرف پنجاب تک محدود نہیں رہیں گے۔ اسلام آباد پولیس کے آئی جی کیپٹن (ر) سہیل چوہدری کے لیے بھی یہ ایک اہم موقع ہوگا۔ پنجاب میں سی پی او فیصل آباد، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اور آر پی او ملتان کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے سہیل چوہدری سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے دارالحکومت میں مؤثر انتظامی حکمت عملی اختیار کریں گے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کی جغرافیائی قربت کے باعث دونوں شہروں کی پولیس کے درمیان رابطہ کاری بھی اہم ہوگی۔ اگر مختلف ادارے باہمی تعاون، بروقت معلومات اور بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ کام کریں تو احتجاج کے دوران عوامی مشکلات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ قبل ازیں پنجاب میں احتجاجی حالات کے دوران ڈاکٹر عثمان انور کی تعیناتی کا بھی ذکر ہوتا رہا ہے۔ تاہم ہر موقع کی صورت حال مختلف ہوتی ہے، اس لیے موجودہ قیادت کے لیے ضروری ہے کہ وہ سابقہ تجربات سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنے حالات کے مطابق حکمت عملی تشکیل دے۔ پی ٹی آئی کے بعض مرکزی رہنماؤں کی حراست کی اطلاعات کے تناظر میں بھی یہ ضروری ہے کہ تمام اقدامات کی قانونی بنیاد واضح ہو اور متعلقہ افراد کو قانون کے مطابق حقوق حاصل رہیں۔ ریاستی اداروں کی مضبوطی اسی میں ہے کہ وہ قانون کی عمل داری کے ساتھ عوام کے اعتماد کو بھی قائم رکھیں۔27 ستمبر کا احتجاج پنجاب اور اسلام آباد پولیس کے لیے اپنی انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع ہے۔ آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم اور آئی جی اسلام آباد کیپٹن (ر) سہیل چوہدری سمیت ان کی ٹیموں سے یہ توقع رکھی جانی چاہیے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ شہریوں کو غیر ضروری مشکلات سے بچانے کی حکمت عملی اپنائیں گے۔پولیس کی اصل کامیابی صرف احتجاج کو روکنے میں نہیں، بلکہ قانون کی عمل داری، عوام کے تحفظ اور معمولات زندگی کو برقرار رکھنے میں ہے۔ اگر 27 ستمبر کو بھی متوازن اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی گئی تو یہ پولیس ادارے کی سربلندی اور عوامی اعتماد میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے
یونس باٹھ کا یہ کالم روزنامہ پاکستان میں 21 ستمبر 2026 کو شائع ہوا ۔

Leave a reply