پنجاب اور خواتین سول افسر

پاکستانی بیورو کریسی ایک طویل عرصے تک مردوں کی دنیا سمجھی جاتی رہی ہے،سرکاری دفاتر، سیکرٹریٹ کی لمبی راہداریاں، ڈپٹی کمشنر کا دفتر، کسی ضلع میں امن و امان کی صورتحال، سیلاب یا سیاسی دباؤ، عمومی تصور یہی رہا کہ یہ کام ”مرد افسر“ کے لئے زیادہ موزوں ہیں، خاتون افسر کو اکثر کئی اضافی امتحان دینا پڑتے ہیں، پہلے سی ایس ایس،پی ایم ایس، کسی اور محکمہ میں سروس کے لئے امتحان،پھر سروس میں اپنی جگہ بنانا،اور اس کے بعد ہر اہم پوسٹنگ پر اپنی صلاحیت دوبارہ ثابت کرنے کا امتحان،آج سوال یہ نہیں کہ پاکستان کی خواتین بیوروکریسی میں کامیاب ہو سکتی ہیں یا نہیں؟ یہ سوال اب پرانا ہو چکا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا انتظامی نظام خواتین کو اتنے مواقع دیتا ہے کہ ان کی صلاحیت کا منصفانہ موازنہ مرد افسروں سے کیا جا سکے؟اور پنجاب میں اس سوال کے ساتھ ایک دوسرا، زیادہ حساس مسئلہ بھی جڑا ہوا ہے،خاتون افسر کا تعلق پی اے ایس سے ہے یاپی ایم ایس سے؟یہاں بعض خواتین افسروں کو صرف اس لئے کم مواقع نہیں ملتے کہ وہ عورت ہیں، بلکہ بعض کو اس لئے بھی محدود مواقع ملتے ہیں کہ وہ ایک مخصوص سروس سے تعلق رکھتی ہیں۔
اسی طرح سوال اٹھتا ہے،کیا خاتون افسر دفتر میں بہتر ہے یا فیلڈ میں؟ یہ کہنا کہ خواتین سیکرٹریٹ میں تو اچھی ہیں مگر فیلڈ میں کمزور ثابت ہوتی ہیں، ایک ایسا عمومی تاثر ہے جسے حقائق مکمل طور پر ثابت نہیں کرتے، کسی بھی افسر کی کارکردگی کا تعلق اس کی جنس یا سروس کیڈر سے نہیں،بلکہ تربیت، تجربے، فیصلہ سازی، انتظامی اختیار اور حالات سے نمٹنے کی صلاحیت سے ہوتا ہے،ڈپٹی کمشنر کا کام صرف فائلوں پر دستخط کرنا نہیں، اسے قیمتوں پر کنٹرول کرنا ہوتا ہے، تجاوزات کے خلاف کارروائی کرنی ہوتی ہے، پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ رابطہ رکھنا ہوتا ہے، مذہبی اجتماعات اور سیاسی سرگرمیوں کو منظم کرنا ہوتا ہے، قدرتی آفات سے نمٹنا ہوتا ہے اور ہر وقت عوامی شکایات کے سامنے جواب دہ ہونا ہوتا ہے، سوال یہ بھی ہے کہ کیا خواتین کو ان ذمہ داریوں کے لئے مناسب تعداد میں آزمایا گیا؟اگر جواب نہیں ہے تو پھر یہ کہنا بھی درست نہیں کہ وہ فیلڈ میں مردوں سے کم کارکردگی دکھاتی ہیں۔
پنجاب کی تاریخ میں متعدد خواتین نے اہم انتظامی ذمہ داریاں سنبھالیں،اس وقت گریڈ بائیس میں ترقی پانے کے لئے موجود گریڈ اکیس کی سینیارٹی لسٹ میں ارم بخاری پہلے نمبر پر ہیں، وہ پنجاب میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے عہدے پر تعینات ہونے والی پہلی خاتون افسر تھیں،ان کی بدقسمتی یہ رہی کہ انہیں بزدار دور حکومت میں یہ تعیناتی ملی، بدسے بدنام برا کے مصداق یہ پوسٹنگ ابھی تک ان کی تعیناتی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے،اسی دور حکومت میں لاہور میں تعینات ایک خاتون ڈپٹی کمشنر کا میں نام نہیں لکھنا چاہتا،وہ اچھا کام کر سکیں نہ اچھا نام بنا سکیں،قصور میں ایک ڈپٹی کمشنر صاحبزادی وسیمہ عمر نے اپنی تعیناتی میں عزت و احترام کے ساتھ بہت اچھا کام کیا،لوگ انہیں اب بھی یاد کرتے ہیں،اسی طرح آسیہ گل بھی قصور میں محنتی ڈپٹی کمشنر تھیں مگر ان کی مشہوری کو ان کی ایک خاتون ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی نظر لگ گئی، لاہور جیسے بڑے اور اہم ضلع میں ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر رفیعہ حیدر بھی تعینات رہیں، یہاں سے ان کی شہرت ان کی پروموشن میں رکاوٹ بن گئی، چکوال میں سارہ حیات ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے نمایاں خدمات سر انجام دے رہی ہیں،انتہائی دیانتدار،محنتی اور باوقار افسر ہیں، ان سے پہلے قرۃ العین ملک بھی اسی ضلع کی ڈپٹی کمشنر رہ چکی ہیں یعنی ایک ہی ضلع میں مسلسل خواتین کو فیلڈ لیڈرشپ کے مواقع ملنا اس تصور کو کمزور کرتا ہے کہ خواتین فیلڈ انتظامیہ کے لئے موزوں نہیں،لیہ میں امیرا بیدار نے دبنگ انداز میں بڑی محنت سے مثالی کام کیا۔ اسی طرح کمشنر کے عہدے پر مختلف ڈویژنز میں سلوت سعید،مریم خان،مسرت جبین نے بہت اچھا کام کیا اور بڑا نام بنایا،مریم خان چار ڈویژنز میں کمشنر کے طور پر کام کر کے ریکارڈ قائم کر چکی ہیں، یہ تینوں ایسی خواتین افسر ہیں جو کل کلاں کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری یا چیف سیکرٹری بھی لگائی جا سکتی ہیں، جب خواتین کو اختیار اور ذمہ داری دی گئی تو نظام نہیں رکا، ضلع،ڈویژن یا دفاتر بہترین کام کرتے رہے اور حکومت کو مرد افسر کے بغیر انتظامیہ چلانے میں کوئی ناقابلِ حل مسئلہ پیش نہیں آیا۔
ایک سوال اور اٹھتا ہے کہ پاکستان کی بیوروکریسی میں کتنی خواتین افسر ایسی ہیں جنہیں اے سی،ڈی سی،کمشنر تک ایک باقاعدہ فیلڈ کیریئر بنانے کا موقع ملا؟ ایک افسر کو اگر ابتدا سے فیلڈ کا تجربہ ملے گا تو وہ ڈی سی،کمشنر کے لئے تیار ہوگا، اگر اسے مسلسل سیکرٹریٹ میں رکھا جائے گا تو بعد میں یہی کہا جائے گا کہ اس کے پاس فیلڈ کا تجربہ نہیں،یہ ایک ایسا چکر ہے جسے توڑنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب خواتین بیورو کریٹس کے لئے نسبتاً بہتر ماحول رکھتا ہے، بڑے شہروں، وسیع انتظامی ڈھانچے اور خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت نے یہاں امکانات پیدا کیے ہیں،خواتین صرف فیلڈ میں نہیں،بلکہ سیکرٹری سطح کے محکموں میں بھی نمایاں ہیں،خواتین نے پالیسی سازی، انتظامی نگرانی، بجٹ، منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی اصلاحات میں اپنی صلاحیت ثابت کی ہے،لیکن صرف چند خواتین کے بڑے عہدوں پر پہنچ جانے سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ نظام مکمل طور پر مساوی ہو چکا ہے۔
پنجاب میں خواتین کی فیلڈ پوسٹنگز پر نظر ڈالیں تو نمایاں مثالوں میں زیادہ تر خواتین پی اے ایس سے تعلق رکھتی نظر آتی ہیں،اس سے ان کی صلاحیت پر کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، وہ یقینی طور پر ان عہدوں کے لئے اہل ہیں اور کئی نے عمدہ کارکردگی بھی دکھائی ہے،لیکن سوال پی ایم ایس کی خواتین کا ہے،پنجاب کی صوبائی مینجمنٹ سروس کی ایسی متعدد خواتین افسر موجود ہیں جو طویل عرصے سے صوبائی انتظامیہ کا حصہ ہیں، محنتی ہیں، بعض بیس سال یا اس سے زیادہ سروس رکھتی ہیں، سیکرٹریٹ اور ضلعی انتظامیہ میں مختلف اہم ذمہ داریاں ادا کر چکی ہیں، مگر انہیں شاید ایک مرتبہ بھی ڈی سی بننے کا موقع نہیں ملا،اب یہاں اعتراض صرف خواتین کا نہیں بلکہ پوری صوبائی سروس کا ہے۔
ایک طرف انہیں مردانہ اکثریت والی بیوروکریسی میں اپنی صلاحیت ثابت کرنی ہے، دوسری طرف انہیں اپنے ہی صوبے میں اہم فیلڈ پوسٹنگ کے لئے ایک مضبوط وفاقی سروس کے مقابلے میں جگہ بنانی ہے،صوبائی سروس کی خواتین ڈپٹی کمشنر،کمشنر کیوں نہیں؟
یہاں پنجاب حکومت کو ایک بہت واضح آڈٹ کرنا چاہئے،اس وقت کیا پنجاب میں ایک قابل، تجربہ کار خاتون پی ایم ایس افسر کو وہی موقع ملتا ہے جو ایک خاتون پی اے ایس افسر کو مل سکتا ہے؟جب تک اس سوال کا جواب شفاف اعدادوشمار اور مساوی مواقع سے نہیں دیا جاتا، پنجاب یہ دعویٰ تو کر سکتا ہے کہ وہ پاکستان میں خواتین بیوروکریٹس کے لئے نسبتاً بہتر ماحول رکھتا ہے، مگر مکمل انصاف کا دعویٰ ابھی قبل از وقت ہوگا، اب امتحان پنجاب کے انتظامی نظام کا ہے کہ وہ صلاحیت کو پہچانتا ہے، یا صرف سروس کے نام کو؟









