ایک نامعلوم موڑ پر کھڑا پاکستان

پاکستان آج جس دور سے گزر رہا ہے، اسے محض سیاسی کشمکش یا معاشی مشکلات کا نام دینا حقیقت کو بہت محدود کر دینا ہوگا۔ مسئلہ کہیں زیادہ گہرا ہے۔ سیاسی عدم اعتماد، کمزور حکمرانی، اداروں کے درمیان کشیدگی، معاشی دباؤ اور عوام کی بڑھتی ہوئی بے یقینی نے مجموعی طور پر ایک ایسی فضا پیدا کر دی ہے جہاں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ہم اس صورتِ حال سے نکل سکتے ہیں؟
میری رائے میں جواب ہاں میں ہے۔
قومیں کبھی ایک ہی رفتار سے سفر نہیں کرتیں۔ بعض اوقات وہ تیزی سے آگے بڑھتی ہیں اور کبھی ایسے موڑ پر پہنچ جاتی ہیں جہاں انہیں اپنی سمت کا ازسرنو تعین کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کی کئی ریاستوں نے تباہ حال معیشتوں، سیاسی بحرانوں اور شدید سماجی مسائل کے باوجود چند دہائیوں میں حیرت انگیز ترقی کی۔ فرق صرف یہ تھا کہ وہاں ایک مرحلے پر قومی مفاد کو وقتی سیاسی مفادات پر ترجیح دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
پاکستان کو بھی شاید اسی طرح کے فیصلے کی ضرورت ہے۔
ہمیں ایک ایسے وسیع تر قومی سمجھوتے کی ضرورت ہے جسے ’’میثاقِ پاکستان‘‘ کہا جا سکے۔ اس کا مقصد کسی جماعت، شخصیت یا ادارے کو فتح دلانا نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد بحال کرنا ہونا چاہیے۔
سب سے پہلے سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے روکنا ہوگا۔ جمہوریت میں اختلاف فطری ہے، لیکن سیاسی مخالف کو ریاست دشمن سمجھ لینا جمہوری نظام کو کمزور کرتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ آج کا مخالف کل اقتدار میں آ سکتا ہے، اور کل کا حکمران آج اپوزیشن میں بیٹھ سکتا ہے۔ اگر سیاسی میدان میں یہ بنیادی اصول تسلیم کر لیا جائے تو تصادم کی شدت خود کم ہونے لگے گی۔
دوسرا اہم مسئلہ اداروں کا باہمی تعلق ہے۔ پاکستان میں ریاستی اداروں کی اپنی اپنی آئینی ذمہ داریاں ہیں۔ قومی سلامتی، دفاع، معیشت، عدلیہ اور سیاست—ہر شعبے کی اپنی حدود ہونی چاہئیں۔ کسی ایک ادارے کا دوسرے کے دائرۂ کار میں مستقل مداخلت کرنا طویل مدت میں پورے نظام کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اسی طرح سیاسی قوتوں کو بھی یہ سیکھنا ہوگا کہ ریاستی اداروں کو سیاسی لڑائی میں فریق بنانا کسی کے مستقل مفاد میں نہیں۔
تیسرا ستون آزاد اور قابلِ اعتماد عدلیہ ہے۔ شہری کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ عدالت میں اس کا مقدمہ اس کی سیاسی وابستگی، مالی حیثیت یا تعلقات دیکھ کر نہیں بلکہ قانون اور شواہد کی بنیاد پر سنا جائے گا۔ انصاف کے نظام پر اعتماد ختم ہو جائے تو ریاست کے باقی اداروں پر اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔
چوتھا اور شاید سب سے فیصلہ کن مرحلہ انتخابی نظام کا ہے۔ عوام جسے ووٹ کے ذریعے اختیار دیں، اس کے مینڈیٹ کا احترام ہونا چاہیے۔ اگر انتخابات پر مستقل سوالات اٹھتے رہیں تو حکومت خواہ کتنی ہی اچھی کارکردگی دکھائے، اس کی سیاسی ساکھ متاثر رہتی ہے۔ پاکستان کو ایسا انتخابی ماحول درکار ہے جس میں امیدوار کو اپنی کامیابی کے لیے عوام سے رجوع کرنا پڑے اور عوام کو یقین ہو کہ ان کا ووٹ واقعی شمار ہوا ہے۔
اس کے بعد اصل امتحان معیشت کا ہے۔
معاشی ترقی صرف قرض لینے، چند منصوبے بنانے یا بجٹ پیش کرنے سے حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے پالیسی کا تسلسل، ٹیکس نظام میں اصلاح، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول، توانائی کی قابلِ اعتماد فراہمی، برآمدات میں اضافہ اور سرکاری اخراجات میں نظم ضروری ہے۔ کاروباری طبقے کو دشمن سمجھنے کے بجائے اسے معیشت کا شریک بنانا ہوگا۔ اسی طرح عام شہری پر ٹیکس کا بوجھ ڈالنے سے پہلے ریاست کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ٹیکس کی رقم شفاف انداز میں عوامی فلاح پر خرچ ہو رہی ہے۔
معاشی اصلاحات کا ایک بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ مراعات یافتہ طبقے بھی قومی ذمہ داری سے مستثنیٰ نہ رہیں۔ جس معاشرے میں قربانی ہمیشہ کمزور سے مانگی جائے اور طاقتور کو ہر مشکل سے محفوظ رکھا جائے، وہاں دیرپا معاشی نظم قائم نہیں ہو سکتا۔
تعلیم، صحت اور نوجوانوں کے روزگار کو بھی قومی ترجیحات میں اوّلین مقام دینا ہوگا۔ لاکھوں نوجوان ہر سال روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں۔ اگر ریاست انہیں ہنر، معیاری تعلیم اور مواقع فراہم نہیں کرتی تو یہ انسانی سرمایہ بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے، حالانکہ یہی نوجوان ملک کی سب سے بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ ریاست کا اصل مقصد کیا ہے۔ ریاست سیاسی جماعتوں کی فتح یا شکست کا نام نہیں۔ ریاست کا مطلب شہری کی جان، مال، عزت، آزادی اور مستقبل کا تحفظ ہے۔ اگر عام آدمی کو قانون، روزگار، تعلیم، علاج اور انصاف میسر ہو تو ریاست مضبوط ہوتی ہے۔
’’میثاقِ پاکستان‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ تمام اختلافات ختم کر دیے جائیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود چند بنیادی اصولوں پر اتفاق پیدا کیا جائے۔
آئین کی بالادستی، شفاف انتخابات، آزاد عدلیہ، مضبوط معیشت، اداروں کی آئینی حدود، سیاسی برداشت، احتساب کا یکساں معیار اور عوام کے مینڈیٹ کا احترام—یہ وہ نکات ہیں جن پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے مسائل بڑے ضرور ہیں، ناقابلِ حل نہیں۔ ضرورت کسی ایک مسیحا کی نہیں بلکہ ایسے اجتماعی فیصلے کی ہے جس میں اقتدار سے زیادہ ریاست، جماعت سے زیادہ وطن اور وقتی فائدے سے زیادہ آنے والی نسلوں کو اہمیت دی جائے۔
اب وقت الزام تراشی سے آگے بڑھنے کا ہے۔ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق ضرور لینا چاہیے، لیکن مستقبل کو ماضی کا قیدی نہیں بنانا چاہیے۔
اگر سیاسی قیادت، ریاستی ادارے، عدلیہ، کاروباری طبقہ اور سول سوسائٹی اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے ایک بنیادی قومی معاہدے پر متفق ہو جائیں تو پاکستان کی سمت تبدیل کی جا سکتی ہے۔
قومیں صرف وسائل سے ترقی نہیں کرتیں؛ وہ درست فیصلوں، مضبوط اداروں اور اجتماعی اعتماد سے ترقی کرتی ہیں۔
پاکستان کے پاس اب بھی وقت ہے۔
ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے اپنے مسائل کو شکست دینے کا فیصلہ کریں









