وزیر اعلیٰ پنجاب! اب بڑی مچھلیاں کب پکڑی جائیں گی؟

وزیراعلیٰ پنجاب نے کرپشن کے خلاف مہم کا اعلان کیا تو عوام نے اسے امید کی نظر سے دیکھا۔ برسوں سے سرکاری دفاتر کے چکر کاٹتے شہری یہ توقع کر رہے تھے کہ شاید اب وہ لوگ بھی قانون کے شکنجے میں آئیں گے جن کے بارے میں عرصہ دراز سے کرپشن کی شکایات گردش کرتی رہی ہیں، مگر چند دن گزرنے کے بعد جو تصویر سامنے آ رہی ہے وہ عوام کے کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔اینٹی کرپشن کی جانب سے گرفتاریاں ضرور ہو رہی ہیں، لیکن اب تک زیادہ تر خبریں سپاہی، اے ایس آئی، سب انسپکٹر، پٹواری، کلرک اور نچلے درجے کے اہلکاروں کی گرفتاریوں تک محدود دکھائی دیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس مہم میں وہ بڑی مچھلیاں کہاں ہیں جن کے بغیر کرپشن کے اس وسیع جال کو توڑنا ممکن نہیں؟ کیا پنجاب کے سرکاری محکموں میں کرپشن صرف نچلے درجے کے ملازمین کرتے ہیں؟ کیا بڑے عہدوں پر بیٹھنے والے افسران سب کے سب دودھ کے دھلے ہوئے ہیں؟ کیا کسی بڑے افسر نے کبھی رشوت نہیں لی، کسی نے اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کیا، کسی نے سفارش یا ناجائز فائدہ نہیں دیا؟ اگر ایسا ہے تو پھر عوام کو بھی اطمینان دلایا جائے، لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر یہ سوال بالکل جائز ہے کہ کارروائی کا ہاتھ اوپر کیوں نہیں پہنچ رہا؟ حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ اینٹی کرپشن کوئی نیا ادارہ نہیں۔ یہ ادارہ برسوں سے موجود ہے، اسے افسران، اختیارات، وسائل اور قانونی طاقت حاصل ہے۔ پھر وزیراعلیٰ پنجاب کو الگ سے کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن کا حکم دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اگر یہ ادارہ اپنی کارکردگی سے عوام کا اعتماد پہلے ہی حاصل کر چکا تھا تو پھر ایک نئے جوش، نئی مہم اور خصوصی ہدایات کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ یہ سوال اینٹی کرپشن کی نیت پر نہیں بلکہ اس کی کارکردگی پر ہے۔ عوام کا ایک بڑا طبقہ اینٹی کرپشن سے مطمئن نہیں۔ عام شہری کا تجربہ یہ ہے کہ شکایت کرو تو کارروائی کا انتظار طویل ہوتا ہے، جبکہ بعض اوقات شکایت کرنے والا ہی مختلف دفتروں کے چکر کاٹتا رہ جاتا ہے۔ دوسری طرف کرپشن کا نظام اپنی جگہ چلتا رہتا ہے۔ اب اگر وزیراعلیٰ واقعی کرپشن کے خلاف فیصلہ کن جنگ چاہتی ہیں تو میری ناقص رائے میں صرف موجودہ نظام کو متحرک کرنا کافی نہیں ہوگا۔ صوبہ بھر سے اچھی شہرت، دیانت اور بے داغ ریکارڈ رکھنے والے افسران پر مشتمل ایک خصوصی آزاد ٹیم تشکیل دی جائے جو صرف کرپشن کرنے والوں کا احتساب نہ کرے بلکہ پہلے اس بات کا جائزہ لے کہ اینٹی کرپشن خود کہاں کھڑی ہے۔ اس ٹیم کا کام یہ بھی ہونا چاہیے کہ اینٹی کرپشن کے اپنے افسران اور اہلکاروں کے خلاف موجود شکایات، انکوائریاں، اثاثے، تعیناتیاں اور سابقہ کارروائیاں دیکھی جائیں۔ اگر ادارہ خود احتساب سے بالاتر ہوگا تو دوسروں کا احتساب بھی مشکوک رہے گا۔ اور ایک بات بہت اہم ہے۔ رشوت لینے والا عموماً اکیلا نہیں ہوتا۔ کہیں نہ کہیں پورا ایک سلسلہ کام کر رہا ہوتا ہے۔ اگر ایک چھوٹا اہلکار گرفتار ہوتا ہے تو یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ اسے رشوت لینے کا حوصلہ کہاں سے ملا؟ اس رقم کا فائدہ کس تک پہنچتا تھا؟ فیصلہ کون کرتا تھا؟ تحفظ کون دیتا تھا؟ صرف ہاتھ پکڑنے سے کرپشن ختم نہیں ہوگی، ہاتھ کو طاقت دینے والے نظام کو پکڑنا ہوگا۔اگر حکومت واقعی اس مہم کو کامیاب بنانا چاہتی ہے تو چند گرفتاریاں اور پریس ریلیز کافی نہیں۔ عوام یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں کے خلاف بھی کارروائی ہوتی ہے، سفارش کے ذریعے بچ جانے والے لوگوں کا ریکارڈ بھی کھولا جاتا ہے اور بار بار کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والے افسران کو صرف تبادلہ کرکے دوبارہ کسی دوسری جگہ تعینات نہیں کیا جاتا۔یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ خفیہ رپورٹس، محکمانہ انکوائریاں اور مختلف اداروں کی رپورٹس سامنے آنے کے باوجود اگر کوئی شخص بار بار حساس عہدے حاصل کرتا ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ عوام کا پیسہ صرف عوام پر خرچ ہوگا۔ یہ ایک خوبصورت عزم ہے، مگر اس عزم کی اصل طاقت عمل میں نظر آئے گی۔آج پنجاب کے عوام وزیراعلیٰ سے ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں:اگر کرپشن کے خلاف واقعی جنگ شروع ہو چکی ہے تو پھر بڑی مچھلیاں کب پکڑی جائیں گی؟اور اینٹی کرپشن سے بھی سوال ہے:جس ادارے کو دوسروں کا احتساب سونپا گیا ہے، کیا وہ اپنے اندر کا احتساب کروانے کے لیے بھی تیار ہے؟ اگر ان دونوں سوالوں کا جواب عملی کارروائی کی صورت میں مل گیا تو شاید عوام کا کھویا ہوا اعتماد واپس آ جائے۔ ورنہ نچلے درجے کے چند اہلکاروں کی گرفتاریاں ایک بار پھر اسی پرانی کہانی کا نیا باب بن کر رہ جائیں گی۔
یہ کالم روزنامہ پاکستان میں 11 ستمبر 2026 کو شائع ہوا









