مریم نواز: ترقی کا رول ماڈل

مریم نواز نے وزیراعلیٰ پنجاب کا حلف اٹھایا تو ان کے ناقدین کا خیال تھا کہ وہ کامیاب نہ ہو سکیں گی۔ ان کے خیال میں مریم نواز کا پہلے سے ایسا کوئی تجربہ نہیں کہ وہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کو سنبھال پائیں۔ آج تقریباً ڈھائی برس ہونے کو ہیں مریم نواز نہایت کامیابی و کامرانی سے اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں۔ دراصل نوازشریف خاندان کو اپنی جماعت کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا آتا ہے انہیں ایک ٹیم بنانا آتی ہے جو دن رات ان کے لئے کام کرتی ہے۔ مریم نواز کی کامیابی کا راز بھی یہی ہے کہ انہوں نے کہنہ مشق لوگوں کی ایک ٹیم بنائی ہے جن سے وہ بھرپور کام لے رہی ہیں۔ مریم نواز کو اب حالات سے نپٹنا آ گیا ہے۔ آج ان کی شبانہ روز کوششوں سے لاہور ایک صاف ستھرا شہر بن گیا ہے اور سب سڑکیں صاف اور چمکتی نظر آ رہی ہیں۔ لاہور کے ہر علاقے کو جاذبِ نظر اور خوبصورت بنایا جا رہا ہے انڈرپاس بنا کر ٹریفک کے نظام کو بھی بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک وقت تھا کہ اسٹیشن جانا اور دو موریہ پل سے گزر کر شاہی قلعہ اور مینار پاکستان جانا محال تھا ہم اگر جانے کا ارادہ بھی کرتے تو یہ سوچ کر نہ جاتے کہ ہم وہاں رش میں ہی پھنسے رہیں گے مگر اب معاملہ مختلف اور اطمینان بخش ہو چکا ہے اب وہاں آپ کو کوئی رکاوٹ یا ٹریفک کا رش نہیں ملے گا۔ یہ کام جو مریم نواز نے کیا ہے۔ اپنی ذات کے لئے نہیں عوام کی دائمی سہولت کے لئے کیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے جس طرح ملتان میں گرین الیکٹروبس سروس شروع کی اور افتتاحی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے پورے اعتماد سے کہا کہ اگر مجھے اڑھائی سال او رمل گئے تو ملتان کے ساتھ جنوبی پنجاب کا نقشہ بدل کر رکھ دوں گی۔لگتا ہے کہ مریم نوازشریف ایسا کر دکھائیں گی۔ انہوں نے ملتان میں کینسر ہسپتال کا بھی افتتاح کیا اور وہاں دنیا کی مہنگی ترین سکین (Scan) مشین انسٹال کی ہے جو کہ ملتان والوں کے ساتھ ساتھ سندھ کے عوام کے لئے بھی بہت بڑا کام ہے ورنہ یہ مشین صرف (PKLI) پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر لاہور میں موجود تھی۔ کینسر کے مریض پر 16لاکھ سے 28لاکھ خرچ ہوتا ہے لیکن وہاں یہ علاج بالکل مفت ہے، اگر مریم نواز اسی طرح کام کرتی رہیں تو تقریباً ہر شہر کے بڑے ہسپتال میں یہ مشین لگ جائے گی اور وہاں کے لوگوں کو علاج کے لئے دوسرے شہروں میں نہیں جانا پڑے گا اگر وزیراعلیٰ مریم نوازمیرٹ پر کام کرتی رہیں تو ہر محکمہ ٹھیک ہو جائے گا اورسفارش کے ذریعے اور میرٹ پر پورا نہ اُترنے والے کسی عہدے پر نہیں بیٹھ سکیں گے جس سے اداروں کی کارکردگی بہتر ہو جائے گی۔ مریم نواز نے اپنی مثبت سوچ کی وجہ سے ہر کام کو میرٹ پر کرنے پر توجہ دی۔ باقی صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھی مریم نوازشریف کی طرح بہتر اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔ مریم نواز کے اندر پاکستان کی بہتری اور ترقی کا جذبہ نظر آتا ہے اور ان کی کاوشوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے انہیں عظمیٰ بخاری، مریم اورنگزیب، پرویز رشید اور سینئر سیاست دان رانا اقبال اور دیگر کا ساتھ میسر ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں مریم نواز کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا کہ ایک خاتون پنجاب کی وزیراعلیٰ بنی تھی جس نے مسلسل محنت اور کوشش سے صوبے کی ترقی کے لئے دن رات جدوجہد کی۔ نوجوانوں کے لئے وزیراعلیٰ نے ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس کے ذریعے جدید سہولیات فراہم کیں جس سے وقت کی بچت ہوگی اور انہیں بسوں کا انتظار کرنے کے لئے لمبی قطاروں میں کھڑا نہیں ہونا پڑے گا۔ اسی طرح لیپ ٹاپ سکیم ان طلباء و طالبات کے لئے کارآمد ثابت ہوگی جو لیپ ٹاپ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ تمام لوگ آج وزیراعلیٰ کو دعائیں دیتے ہیں۔ فوڈ اور کوالٹی کنٹرول پر جس طرح کام ہو رہا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ سب سے اچھی بات تو یہ ہے کہ چھوٹے تاجروں کے علاوہ بڑے بڑے سٹوروں پر بھی چیک اینڈ بیلنس رکھا جاتا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ انسانی زندگی سے کھیلنے کی اجازت بھی کسی کو نہیں دینی چاہیے جس کے لئے ادویات کی قیمتوں کو بھی کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ بے جا منافع کو کنٹرول کیا جا سکے۔
یہاں ہم وزیراعلیٰ مریم نواز سے اپیل کرتے ہیں کہ جہاں آپ بڑے بڑے کام تندہی سے کررہی ہیں وہاں قدیم علاقوں کی خوبصورتی کو بھی بحال کیا جائے اور رہائشی علاقوں میں گاڑیوں اور دیگر اتوار بازار لگانے کو ممنوع قرار دیا جائے۔ ان بازاروں کی وجہ سے ہر علاقے کا حسن اور مکینوں کا سکون تباہ کر دیا گیا ہے۔ خاص طور پر سمن آباد کے علاقے کو کمرشلزم او رمذکورہ گاڑیوں کے اتوار بازار نے مقامی لوگوں کا جینا اور وہاں سے عورتوں کا گزرنا اجیرن بنا دیا ہے جبکہ سمن آبادایک تاریخ ساز علاقہ ہے جہاں نامور شاعر، ادیب، معلم، اداکار جن میں صوفی تبسم، اے حمید، سید وقار عظیم، طارق عزیز، آغا طالش، اشفاق احمد،بانو قدسیہ، احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر عبادت بریلوی اور قتیل شفائی جیسی عظیم شخصیات رہائش پذیر تھیں۔ استدعا ہے کہ سمن آباد کے علاقے کی خوبصورتی کو پھر سے بحال کروایا جائے اور ان غیر ضروری بازاروں سے علاقہ مکینوں کی جان چھڑائی جائے۔
مریم نواز کی قیادت میں پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو دیکھا جائے تو یہ بات نمایاں ہوتی ہے کہ ان کی توجہ محض اعلانات تک محدود نہیں بلکہ سڑکوں، صحت، تعلیم، رہائش اور بنیادی شہری سہولیات جیسے شعبوں میں عملی اقدامات پر بھی مرکوز ہے
ڈاکٹر فوزیہ تبسم کا یہ کالم روزنامہ پاکستان میں 29 ستمبر 2026 کو شائع ہوا ۔









