دنیا کی دولت کہاں جا رہی ہے؟

دنیا کی دولت کہاں جا رہی ہے؟

تحریر:محمد رشید

دنیا کی معیشت بظاہر ترقی کے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے، لیکن عام انسان کی زندگی میں ایک عجیب بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک طرف اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، نئی ٹیکنالوجی اور بڑی کمپنیوں کی کامیابیاں ہیں، دوسری طرف کروڑوں لوگ بڑھتے ہوئے اخراجات، مہنگائی اور مستقبل کے خوف سے پریشان ہیں۔
یہ کیسا معاشی دور ہے جہاں دولت کے پہاڑ بلند ہو رہے ہیں مگر عام آدمی کے لیے زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے؟
معیشت کے ماہرین برسوں سے ترقی کے اعداد و شمار پر گفتگو کرتے رہے ہیں، لیکن اب ایک نیا سوال سامنے آ رہا ہے: کیا ترقی واقعی سب کے لیے ہے یا صرف چند ہاتھوں تک محدود ہو رہی ہے؟
گزشتہ چند برسوں میں دنیا نے کئی بڑے معاشی جھٹکے دیکھے۔ وبائی بحران، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی تنازعات اور سپلائی چین کے مسائل نے پوری دنیا کے بازاروں کو متاثر کیا۔ اشیائے خورونوش سے لے کر گھروں کے کرایوں تک، ہر شعبے میں عام شہری نے دباؤ محسوس کیا۔
سب سے زیادہ پریشان کن صورتحال متوسط طبقے کی ہے۔ یہی طبقہ کسی بھی ملک کی معیشت کا ستون سمجھا جاتا ہے، لیکن بڑھتے ہوئے اخراجات نے اس طبقے کے لیے بچت، سرمایہ کاری اور بہتر مستقبل کے خواب کو مشکل بنا دیا ہے۔
دوسری طرف دولت کی تقسیم کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ دنیا میں چند بڑی کمپنیاں اور افراد بے مثال دولت حاصل کر رہے ہیں، جبکہ کئی کارکن اپنی آمدنی کو بڑھتی ہوئی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی محسوس کرتے ہیں۔
اب ایک نیا کھلاڑی معاشی میدان میں داخل ہو چکا ہے: مصنوعی ذہانت۔
مصنوعی ذہانت کو دنیا کا اگلا بڑا صنعتی انقلاب قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کاروبار، تحقیق، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں حیرت انگیز تبدیلیاں لا سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک بڑا سوال بھی موجود ہے: کیا مستقبل کی معیشت میں انسان کے لیے کافی مواقع باقی رہیں گے؟
کئی ماہرین کا خیال ہے کہ نئی ٹیکنالوجی پرانے روزگار ختم کرنے کے ساتھ نئے مواقع بھی پیدا کرے گی، مگر اصل کامیابی ان معاشروں کو ملے گی جو اپنے شہریوں کو نئی مہارتیں سکھانے اور تبدیلی کے لیے تیار کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
عالمی طاقتوں کے درمیان معاشی مقابلہ بھی اب پہلے سے زیادہ سخت ہو چکا ہے۔ تجارت، سیمی کنڈکٹرز، توانائی اور ٹیکنالوجی اب صرف کاروباری معاملات نہیں رہے بلکہ عالمی طاقت کے نئے ہتھیار بن چکے ہیں۔
لیکن ہر معاشی جنگ کا سب سے بڑا اثر عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ جب قیمتیں بڑھتی ہیں، ملازمتیں غیر یقینی ہوتی ہیں اور مستقبل دھندلا نظر آتا ہے تو معاشی مسئلہ سیاسی بحران بھی پیدا کر سکتا ہے۔
آنے والے برس دنیا کی معیشت کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔ سوال یہ نہیں کہ دنیا کتنی دولت پیدا کر سکتی ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ دولت کتنے لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔
اگر معیشت صرف چند طاقتور اداروں کی ترقی کا نام بن گئی تو بے چینی بڑھتی جائے گی۔ لیکن اگر ترقی کے مواقع عام شہری تک پہنچے تو یہی دور ایک نئے معاشی انقلاب کا آغاز بھی بن سکتا ہے۔
پیسہ دنیا چلا رہا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ دنیا کے کتنے لوگ اس دوڑ میں شامل ہیں؟

Leave a reply