درجہ حرارت کا قہر: کیا آنے والے سال صحت کے لیے تباہ کن ہوں گے؟

درجہ حرارت کا قہر: کیا آنے والے سال صحت کے لیے تباہ کن ہوں گے؟

تحریر:محمد رشید

موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحول کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ انسانی صحت، معیشت اور سماجی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت، غیر معمولی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور فضائی آلودگی اس بات کا ثبوت ہیں کہ قدرتی نظام تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ ان تبدیلیوں کے اثرات براہ راست انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر پڑ رہے ہیں۔
شدید گرمی انسانی صحت کے لیے سب سے نمایاں خطرات میں شامل ہے۔ جب درجہ حرارت معمول سے زیادہ بڑھ جاتا ہے تو ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، دل اور سانس کے امراض میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بزرگ افراد، بچے اور وہ لوگ جو کھلے ماحول میں کام کرتے ہیں، اس خطرے کا زیادہ سامنا کرتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے کیونکہ وہاں صحت کی سہولیات اور حفاظتی وسائل محدود ہو سکتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی بیماریوں کے پھیلاؤ کے انداز کو بھی تبدیل کر رہی ہے۔ درجہ حرارت اور بارشوں میں تبدیلی کے باعث بعض علاقوں میں مچھروں اور دیگر جراثیم پھیلانے والے حشرات کی تعداد بڑھ سکتی ہے، جس سے ملیریا، ڈینگی اور دیگر متعدی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں صحت کے نظام کو پہلے سے زیادہ تیار رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
فضائی آلودگی بھی موسمیاتی بحران سے جڑی ہوئی ہے۔ گاڑیوں، صنعتوں اور توانائی کے روایتی ذرائع سے پیدا ہونے والی آلودگی نہ صرف ماحول کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ سانس، پھیپھڑوں اور دل کے امراض کا سبب بھی بنتی ہے۔ بڑے شہروں میں رہنے والے لاکھوں افراد روزانہ آلودہ ہوا کا سامنا کرتے ہیں، جس کے طویل مدتی اثرات خطرناک ہو سکتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کا ایک کم زیر بحث پہلو ذہنی صحت بھی ہے۔ قدرتی آفات، گھر بار کا نقصان، روزگار کے مسائل اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کیفیت لوگوں میں ذہنی دباؤ، پریشانی اور خوف پیدا کر سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ کمیونٹیز جو بار بار سیلاب یا خشک سالی کا سامنا کرتی ہیں، ان پر اس کا گہرا اثر پڑتا ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف ماحولیاتی پالیسیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ صحت کے نظام کو بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ اسپتالوں کی تیاری، ہنگامی منصوبہ بندی، عوامی آگاہی اور بیماریوں کی نگرانی جیسے اقدامات بہت اہم ہیں۔
حکومتوں کو صاف توانائی، بہتر شہری منصوبہ بندی اور آلودگی میں کمی کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ اسی طرح عوامی سطح پر بھی توانائی کے محتاط استعمال، درختوں کے تحفظ اور ماحول دوست طرز زندگی کو فروغ دینا ضروری ہے۔
موسمیاتی تبدیلی ایک مشترکہ عالمی مسئلہ ہے جس کا مقابلہ کسی ایک ملک کے لیے ممکن نہیں۔ عالمی تعاون، سائنسی تحقیق اور ذمہ دارانہ پالیسی سازی کے ذریعے ہی اس چیلنج کو کم کیا جا سکتا ہے۔ مستقبل کی صحت کا تحفظ دراصل آج کے ماحولیاتی فیصلوں سے وابستہ ہے۔

Leave a reply