“اگلی جنگ کہاں؟”

"اگلی جنگ کہاں؟"

تحریر:نور فاطمہ

اعداد و شمار کی دنیا میں سب کچھ بہتر دکھائی دیتا ہے، لیکن عام آدمی کی جیب ایک مختلف کہانی سنا رہی ہے۔ بازار مہنگے، خواب محدود اور مستقبل غیر یقینی ہوتا جا رہا ہے۔
دنیا کی معیشت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف اربوں ڈالر کی کمپنیاں ترقی کر رہی ہیں، دوسری طرف لاکھوں خاندان روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
یہ صرف مہنگائی کا مسئلہ نہیں، یہ اعتماد کا بحران ہے۔
لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اگر معیشت مضبوط ہے تو زندگی مشکل کیوں ہو رہی ہے؟ اگر ترقی ہو رہی ہے تو فائدہ چند ہاتھوں تک کیوں محدود ہے؟
نئی ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت، معیشت کا اگلا بڑا انقلاب بن سکتی ہے۔ لیکن ہر انقلاب اپنے ساتھ خوف بھی لاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آنے والی مشینیں انسان کے کام کو آسان بنائیں گی یا لاکھوں ملازمتوں کو خطرے میں ڈال دیں گی؟
دنیا کے بڑے ادارے نئی معاشی حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں، مگر عام شہری کے لیے اصل مسئلہ اب بھی وہی ہے: گھر کا خرچ، روزگار کا تحفظ اور بچوں کا مستقبل۔
دولت پیدا کرنے کی رفتار بڑھ گئی ہے، مگر دولت کی تقسیم پر سوال پہلے سے زیادہ شدید ہو گئے ہیں۔ ایک طرف جدید ترین ٹیکنالوجی اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہے، دوسری طرف بڑھتی ہوئی معاشی بے چینی۔
معاشی جنگیں بھی اب میدان جنگ کے بغیر لڑی جا رہی ہیں۔ تجارت، کرنسی، توانائی اور ٹیکنالوجی عالمی طاقت کا نیا میدان بن چکے ہیں۔
آنے والے برس فیصلہ کریں گے کہ دنیا ایسی معیشت بناتی ہے جو صرف طاقتور اداروں کو فائدہ دے یا ایسی معیشت جو عام انسان کو بھی تحفظ اور مواقع فراہم کرے۔
کیونکہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ کتنے لوگ امیر ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ کتنے لوگ محفوظ مستقبل حاصل کر سکے۔
معیشت کے پردے کے پیچھے ایک بڑی تبدیلی جنم لے رہی ہے۔

Leave a reply