عالمی منڈی میں غذائی اشیا مہنگی، ایف اے او انڈیکس تین سال کی بلند ترین سطح پر

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کی تازہ رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں عالمی سطح پر غذائی اشیا کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی فوڈ پرائس انڈیکس جون کے مقابلے میں مزید اوپر گیا، جس کی بڑی وجوہات موسمیاتی تبدیلیوں، مختلف خطوں میں جاری تنازعات اور زرعی پیداوار پر بڑھتے دباؤ کو قرار دیدیاگیا ہے۔
ایف اے او کے مطابق گندم کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بحیرہ اسود کے خطے میں برآمدات میں رکاوٹیں اور شدید گرمی کی لہر کے باعث کئی اہم زرعی علاقوں میں فصلیں متاثر ہوئیں، جس سے عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ گئیں۔
ویجیٹیبل آئل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق توانائی کے شعبے میں بائیو ڈیزل کی طلب بڑھنے اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے خوردنی تیل کی عالمی قیمتوں پر اثر ڈالا۔
اسی طرح یورپ اور ایشیا میں موسم سے متعلق خدشات کے باعث چینی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گوشت کی عالمی قیمتوں میں نسبتاً کمی دیکھی گئی۔








