سلاد کھانے والے ہوشیار! آلودہ سبزیوں سے ہزاروں افراد اسپتال پہنچ گئے

0
29
سلاد کھانے والے ہوشیار! آلودہ سبزیوں سے ہزاروں افراد اسپتال پہنچ گئے

امریکا میں میکسیکو سے درآمد کی جانے والی آئس برگ لیٹس (سلاد کے پتے) اور جلاپینو مرچوں سے منسلک دو مختلف غذائی وباؤں نے صحت حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ امریکی ادارے ان بیماریوں کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر رہے ہیں کیونکہ متاثرہ افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
حکام کے مطابق آئس برگ لیٹس سے پھیلنے والی سائیکلوسپوریاسس کی وبا اب 15 ریاستوں تک پہنچ چکی ہے۔ اس بیماری سے اب تک 6 ہزار 358 افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ کم از کم 2سو78 مریضوں کو اسپتال منتقل کیاگیا ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ اصل تعداد اس سےکہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ تمام کیسز کی رپورٹنگ میں وقت لگتا ہے۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ متاثرہ لیٹس میکسیکو سے درآمد کی گئی تھی اور اسے بعض ریستورانوں میں استعمال کیا گیا۔ حکام اس کے ممکنہ ذرائع کی مزید جانچ بھی کر رہے ہیں۔
سائیکلوسپوریاسس ایک آنتوں کا انفیکشن ہے جو آلودہ خوراک یا پانی کے استعمال سے پھیل سکتا ہے۔ اس کی عام علامات میں اسہال، متلی، پیٹ میں درد اور نظامِ ہاضمہ کی دیگر شکایات شامل ہیں۔
دوسری جانب میکسیکو سے درآمد ہونے والی جلاپینو مرچوں سے متعلق سالمونیلا کی وبا بھی سامنے آئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق 27 ریاستوں میں اب تک 345 افراد اس انفیکشن کا شکار ہوئے ہیں، جن میں سے 36 کو اسپتال میں داخل کرنا پڑا، تاہم اس وبا سے کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
تحقیقات کے مطابق متاثرہ مرچیں مختلف ریستورانوں تک بھی پہنچی تھیں، تاہم متعلقہ سپلائرز اور ریستورانوں نے احتیاطی اقدامات کے تحت ان مصنوعات کا استعمال روک دیا ہے اور سپلائی چین میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق سالمونیلا انفیکشن عام طور پر بخار، اسہال اور پیٹ میں شدید درد کا باعث بنتا ہے، جبکہ بچے، بزرگ افراد اور کمزور قوتِ مدافعت رکھنے والے افراد اس سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
امریکی صحت حکام کا کہنا ہے کہ دونوں وباؤں کی تحقیقات جاری ہیں اور خوراک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مزید معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔

Leave a reply