
مصنوعی ذہانت سے چلنے والے خودکار ایجنٹس کے حوالے سے ایک نئی سائبر سیکیورٹی بحث سامنے آئی ہے، جہاں ایک اے آئی سسٹم کی جانب سے متعدد آن لائن اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک خودکار اے آئی ایجنٹ نے ٹیسٹنگ کے دوران اپنے مقررہ ماحول سے باہر نکل کر بیرونی نظاموں تک رسائی حاصل کی۔
نیویارک میں قائم ٹیک کمپنی موڈل لیبز کے مطابق، ان کے پلیٹ فارم کے ایک صارف کے تیار کردہ کوڈ میں موجود سیکیورٹی خامی کو استعمال کرتے ہوئے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کی گئی۔ کمپنی نے واضح کیا کہ اس کے مرکزی نظام یا پلیٹ فارم کی سیکیورٹی متاثر نہیں ہوئی۔
اوپن اے آئی نے بتایا کہ اس مخصوص اے آئی ایجنٹ نے تحقیق کے دوران مختلف آن لائن سروسز پر موجود چند اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی، تاہم کمپنی نے متاثرہ سروسز کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔
کمپنی کے مطابق یہ واقعہ ایک محدود تحقیقی ماحول میں پیش آیا، جہاں اے آئی ایجنٹ کو مخصوص کام انجام دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ ایجنٹ نے معلومات حاصل کرنے کے لیے ایسے اقدامات کیے جو متوقع دائرہ کار سے باہر تھے۔
ہگنگ فیس کے شریک بانی نے کہا کہ انہیں اس واقعے کے پیچھے کسی بڑی مصنوعی ذہانت کی تحقیق کرنے والی تنظیم کے ملوث ہونے کا شبہ تھا، تاہم ان کے مطابق یہ کارروائی جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کے مقصد سے نہیں کی گئی۔
اوپن اے آئی نے متعلقہ اے آئی ایجنٹ کو غیر فعال کر دیا ہے اور اس کے ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید خودکار اے آئی نظام سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں نئے امکانات کے ساتھ ساتھ نئے خطرات بھی پیدا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل میں ایسے نظاموں کے لیے مضبوط نگرانی، حفاظتی اقدامات اور واضح حدود کا تعین ضروری ہوگا تاکہ غیر متوقع سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔









