
بارشوں کا موسم جہاں گرمی کا زور توڑ دیتا ہے، وہیں اس دوران مختلف موسمی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق بدلتے موسم میں نزلہ، زکام، گلے کی تکلیف اور وائرل بخار کے کیسز میں اضافہ دیکھا جاتا ہے، اس لیے احتیاطی اقدامات ضروری ہیں۔
وائرل بخار عام طور پر وائرس کے باعث ہوتا ہے جس میں بخار، جسم میں درد، تھکن، سر درد، گلے میں خرابی اور ناک بہنے جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ بچے، بزرگ اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد اس سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
صحت کے ماہرین کے مطابق وائرل انفیکشن سے بچاؤ کے لیے ہاتھوں کی صفائی کو معمول بنایا جائے۔ باہر سے آنے کے بعد، کھانے سے پہلے اور واش روم کے استعمال کے بعد صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھونا ضروری ہے۔ بغیر ہاتھ صاف کیے آنکھوں، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کرنا چاہیے۔
قوت مدافعت بہتر رکھنے کے لیے متوازن غذا کا استعمال بھی اہم ہے۔ تازہ پھل، سبزیاں، دالیں، دودھ، دہی، انڈے اور غذائیت سے بھرپور اشیا کو خوراک کا حصہ بنانا چاہیے جبکہ غیر معیاری اور کھلی جگہوں پر فروخت ہونے والی اشیا سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔
بارش کے موسم میں صاف پانی کا استعمال بھی انتہائی ضروری ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ فلٹر شدہ یا ابلا ہوا پانی استعمال کیا جائے اور غیر محفوظ مشروبات، کھلے جوس اور آلودہ برف کے استعمال سے بچا جائے۔
اگر کوئی شخص بارش میں بھیگ جائے تو اسے فوری طور پر خشک کپڑے پہننے چاہئیں اور جسم کو خشک رکھنا چاہیے۔ گیلے کپڑوں میں زیادہ دیر رہنے سے جسمانی تکلیف اور انفیکشن کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
مناسب نیند اور آرام بھی جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ روزانہ پوری نیند لینا، ہلکی ورزش کرنا اور ذہنی دباؤ کم رکھنا صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔
وائرل بیماریوں سے بچنے کے لیے بیمار افراد سے غیر ضروری قریبی رابطے سے گریز کریں۔ کھانستے اور چھینکتے وقت منہ اور ناک کو ڈھانپیں، جبکہ ضرورت کے وقت ماسک کا استعمال بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق بخار، شدید کمزوری، مسلسل جسمانی درد یا گلے کی تکلیف کی صورت میں علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ خود سے اینٹی بائیوٹک استعمال کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
اگر بخار بہت زیادہ ہو، کئی دن برقرار رہے، سانس لینے میں دشواری ہو، مسلسل قے آئے یا مریض کو شدید کمزوری محسوس ہو تو فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔
احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے برسات کے موسم میں وائرل بخار اور دیگر موسمی بیماریوں کے خطرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔









