دنیا کا بلند ترین برج، جہاں مصنوعی آبشار بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے

0
5
دنیا کا بلند ترین برج، جہاں مصنوعی آبشار بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے

چین نے ایک بار پھر اپنی جدید انجینئرنگ کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسا پل تعمیر کیا ہے جو دنیا کے بلند ترین پلوں میں شامل ہے۔ ہوا جیانگ گرینڈ کینن برج نہ صرف اپنی غیر معمولی بلندی کی وجہ سے مشہور ہے بلکہ اس میں موجود مصنوعی آبشار بھی اسے ایک منفرد سیاحتی مقام بنا دیتی ہے۔

یہ پل چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو میں واقع ہے، جہاں پہاڑی علاقوں کی وجہ سے سفر ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مختلف علاقوں کے درمیان فاصلے کو کم کرنا تھا، جس کے بعد کئی گھنٹوں کا سفر اب چند منٹوں میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔

پل سطح زمین سے تقریباً 625 میٹر بلند ہے اور اسے ستمبر 2025 میں عوام کے لیے کھولا گیا۔ اس کی لمبائی تقریباً 9,482 فٹ ہے، جبکہ تعمیر کے دوران تقریباً 20 ہزار ٹن اسٹیل استعمال کیا گیا۔

ہوا جیانگ برج کو صرف آمدورفت کے لیے نہیں بنایا گیا بلکہ اسے سیاحتی مرکز کے طور پر بھی تیار کیا گیا ہے۔ یہاں شیشے کے واک ویز، بلند ٹاورز میں کیفے اور ایڈونچر سرگرمیوں سمیت کئی سہولیات موجود ہیں۔

اس پل کی سب سے خاص بات اس کی تقریباً 300 میٹر طویل مصنوعی آبشار ہے، جسے جدید ٹیکنالوجی اور لائٹنگ سسٹم کے ذریعے مزید دلکش بنایا گیا ہے۔ رات کے وقت یہ منظر سیاحوں کی خاص توجہ حاصل کرتا ہے۔

انجینئرنگ کے اس شاہکار کو چین کے جدید تعمیراتی منصوبوں میں ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف سفر کو آسان بناتا ہے بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک منفرد تجربہ بھی پیش کرتا ہے۔

Leave a reply