پیٹرول کی قیمت کا راز کھل گیا، فی لیٹر عوام سے کتنے روپے ٹیکس وصول ہو رہے ہیں؟

0
17
پیٹرول کی قیمت کا راز کھل گیا، فی لیٹر عوام سے کتنے روپے ٹیکس وصول ہو رہے ہیں؟

پاکستان میں درآمد ہونے والا پیٹرول بندرگاہ پر پہنچنے کے بعد مختلف سرکاری محصولات، ترسیلی اخراجات اور کاروباری مارجن شامل ہونے کے باعث صارفین تک کہیں زیادہ قیمت پر پہنچتا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق درآمدی لاگت کےبعد سب سے پہلےکسٹم اوربندرگاہ سےمتعلق اخراجات شامل کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے آپریشنل اخراجات، نقل و حمل کے کرایے اور پیٹرول پمپ ڈیلرزکا مقررہ مارجن قیمت کاحصہ بنتاہے۔
قیمت میں سب سے نمایاں اضافہ حکومتی محصولات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی کے علاوہ کلائمٹ سپورٹ فنڈ کی مد میں بھی فی لیٹر اضافی رقم وصول کی جاتی ہے۔ اسی طرح ڈیزل پر بھی لیوی، فریٹ چارجز، آئل کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن شامل کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان تمام اخراجات اور ٹیکسوں کے بعد پیٹرول کی خوردہ قیمت درآمدی لاگت کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم لیوی اور دیگر محصولات سے حاصل ہونے والی آمدن قومی خزانے میں جمع ہوتی ہے، جسے مختلف سرکاری اخراجات اور ترقیاتی ضروریات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

Leave a reply