
امریکی سائنس دانوں نے اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے والے خطرناک بیکٹیریا (سپر بگز) سے نمٹنے کے لیے ایک نئی پیش رفت کی ہے، جس سے مستقبل میں مشکل انفیکشنز کے علاج کی راہ ہموار ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
تحقیق کے مطابق نئی اینٹی بائیوٹک تیار کرنے کے بجائے موجودہ ادویات کی مؤثریت بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے “اینٹی بائیوٹک ایڈجوونٹس” نامی ایسے مرکبات استعمال کیے جا رہے ہیں جو خود بیکٹیریا کو ختم نہیں کرتے، بلکہ اینٹی بائیوٹکس کو زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
محققین نے ایک مرکب PGHI-4 کو طاقتور اینٹی بائیوٹک وینکومائسین کے ساتھ آزمایا۔ لیبارٹری تجربات میں یہ امتزاج ان بیکٹیریا کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہوا جو پہلے وینکومائسین کے خلاف مزاحمت پیدا کر چکے تھے۔
سائنس دانوں کے مطابق PGHI-4 بیکٹیریا کے ایک اہم انزائم کو غیر فعال کر دیتا ہے، جس سے ان کی حفاظتی دیوار کمزور ہو جاتی ہے اور وینکومائسین دوبارہ مؤثر انداز میں انہیں ختم کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔
تحقیق کے دوران دوا کے خلاف مزاحمت رکھنے والے ای فیشیم بیکٹیریا کو کامیابی سے ختم کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے مستقبل میں تپ دق (ٹی بی) سمیت دیگر مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا کے علاج میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
محققین نے اس تحقیق میں جدید کیمیائی طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے 150 سے زائد نئے مرکبات پر مشتمل ایک لائبریری تیار کی، جس سے اینٹی بائیوٹک مزاحمت اور دیگر طبی تحقیقات میں بھی فائدہ متوقع ہے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کا غیر ضروری یا غلط استعمال بیکٹیریا میں مزاحمت پیدا کرنے کی بڑی وجہ ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ اینٹی بائیوٹکس ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کی جائیں اور تجویز کردہ مکمل کورس ضرور مکمل کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق اگر آئندہ تحقیق اور کلینیکل آزمائشیں کامیاب رہیں تو یہ طریقہ مستقبل میں دوا کے خلاف مزاحمت رکھنے والے انفیکشنز کے علاج میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔









