
خیبرپختونخوا اور پنجاب میں جاری مون سون بارشوں، سیلابی ریلوں اور مختلف حادثات کے باعث جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں پیش آنیوالےواقعات میں 14 افراد جاں بحق جب کہ 19 افراد زخمی ہوئےہیں۔ جانبحق افراد میں 6 مرد، 6 بچے اور 2 خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں مرد، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث اب تک 28 مکانات متاثر ہوئے ہیں، جن میں 6 مکمل طور پر منہدم جبکہ 22 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ اضلاع میں پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، لوئر چترال، لوئر و اپر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر، کرم اور شمالی وزیرستان شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں امداد اور بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ 23 جولائی تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے، لہٰذا احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔
ادھر لنڈی کوتل میں پاک افغان شاہراہ پر ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں مختلف حساس مقامات پر تعینات کر دی گئی ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ندی نالوں اور تیز بہاؤ والے علاقوں سے دور رہیں اور بچوں کو پانی کے قریب نہ جانے دیں۔
دوسری جانب پنجاب کے ضلع وزیرآباد اور گردونواح میں مسلسل بارشوں کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ہیں۔ ہیڈ مرالہ، خانکی اور قادر آباد بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے دریا کے کنارے رہنے والے مکینوں کو احتیاطاً محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔









