
ڈڈیال: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں جاری سیاسی صورتحال ایک اہم امتحان ہے، جس کا حل صرف مذاکرات، سیاسی عمل اور عوامی نمائندگی کے ذریعے ممکن ہے۔
ڈڈیال میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام ہی کریں گے اور اس معاملے پر تمام سیاسی قوتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کے مسائل کا حل تلاش کرنا بھی ہے۔
بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر کے بحران کے حل کے لیے ایک مصالحتی کمیشن بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور احتجاج کرنے والے فریق کمیشن کی سفارشات آنے تک ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ اس تجویز پر ابھی تک مثبت پیش رفت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، تاہم ایسے اقدامات جن سے خوراک، ایندھن، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی متاثر ہو، ان کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو پہنچتا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے ایک وفاقی وزیر کے متنازع بیان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی وزیر کا مؤقف کشمیر سے متعلق حکومتی پالیسی سے مختلف ہے تو وزیراعظم کو اس حوالے سے وضاحت کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ذاتی رائے ہے تو ایسے وزیر کی کابینہ میں موجودگی پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں آئینی اور سیاسی طریقۂ کار کے ذریعے مسائل کے مستقل حل کی حامی ہے اور انتخابات کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر آئینی مشاورت کا عمل شروع کرنے کی کوشش کرے گی۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال، احتجاجی سرگرمیوں اور بعض وفاقی رہنماؤں کے بیانات پر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔









