ووٹ سے پہلے سیاسی سناٹا، اصل وجہ کیا ہے؟

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 27 جولائی کو منعقد ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 45 انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 852 امیدوار حصہ لے رہے ہیں، جبکہ رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے ساتھ آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں۔ ووٹرز کی تعداد تقریباً 23 لاکھ 50 ہزار ہے۔
انتخابی عمل میں عام نشستوں کے علاوہ مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص نشستوں پر بھی ووٹنگ ہوگی۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ضروری انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔
اس بار انتخابی ماحول گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں نسبتاً کم سرگرم دکھائی دے رہا ہے۔ متعدد علاقوں میں بڑے جلسے، ریلیاں، بینرز اور پوسٹرز کم نظر آ رہے ہیں، جبکہ کئی امیدوار گھر گھر جا کر ووٹرز سے ملاقاتوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
سیاسی جماعتوں میں پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بھی بعض حلقوں میں اپنی انتخابی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب احتجاجی سرگرمیوں اور امن و امان کی صورتحال پر بھی توجہ مرکوز ہے۔ حکام کے مطابق سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اضافی انتظامات کیے جا رہے ہیں اور وفاق سے مزید اہلکار بھی طلب کیے گئے ہیں۔
کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ انتخابی سرگرمیوں میں کمی کے باعث پرنٹنگ، کیٹرنگ اور دیگر متعلقہ شعبوں کا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اب تک انتخابی مہم میں رکاوٹ یا تشدد سے متعلق کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔ سیکرٹری داخلہ آزاد کشمیر نے بھی واضح کیا ہے کہ انتخابات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق 27 جولائی کو ہوں گے اور سیکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔









