بھارتی خلائی مشنوں کو بڑا جھٹکا؟ اسرو کے درجنوں ماہر سائنس دان مستعفی

0
22
بھارتی خلائی مشنوں کو بڑا جھٹکا؟ اسرو کے درجنوں ماہر سائنس دان مستعفی

بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) میں 100 سے زائد تجربہ کار سائنس دانوں کے استعفوں کے بعد ادارے میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان سائنس دانوں کے مستعفی ہونے کی بڑی وجوہات میں نجی خلائی کمپنیوں کی جانب سے بہتر مراعات، زیادہ تنخواہیں اور کام کے دباؤ میں اضافہ شامل ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں بھارت میں خلائی تحقیق کے شعبے میں نجی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جو تجربہ کار ماہرین کو سرکاری اداروں کے مقابلے میں زیادہ پرکشش مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے کئی سائنس دان نجی شعبے کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بڑے خلائی منصوبوں، جن میں گگن یان اور چندریان جیسے مشنز شامل ہیں، کے دوران مسلسل کام اور دباؤ بھی بعض ملازمین کے لیے ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ کچھ سائنس دان ذاتی زندگی میں توازن برقرار رکھنے کے لیے قبل از وقت ریٹائرمنٹ یا استعفیٰ لینے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
اس صورتِ حال کے بعد بھارتی محکمہ خلائی امور نے استعفوں کے طریقہ کار کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب اسرو کے مراکز کے سربراہان کسی بھی سائنس دان کا استعفیٰ فوری طور پر منظور نہیں کر سکیں گے، بلکہ درخواستوں کو حتمی منظوری کے لیے متعلقہ حکام کو بھیجا جائے گا۔
اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے کہا ہے کہ ملازمین کا ادارے میں آنا اور جانا معمول کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق نئے اقدامات کا مقصد ملازمین کو روکنا نہیں بلکہ اہم خلائی منصوبوں کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔
اسرو میں مجموعی طور پر ہزاروں ملازمین کام کر رہے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق تجربہ کار سائنس دانوں کا جانا ادارے کے لیے ایک چیلنج ہے کیونکہ پیچیدہ خلائی منصوبوں کا عملی تجربہ حاصل کرنے میں کئی سال لگتے ہیں۔
دوسری جانب اسرو میں نئی سائنسی اور تکنیکی بھرتیوں کا عمل بھی جاری ہے تاکہ مستقبل کے خلائی منصوبوں کے لیے افرادی قوت کو مضبوط بنایا جا سکے۔

Leave a reply