ڈارک ویب پر بھارتی نیوکلیئر پلانٹ کی مبینہ خفیہ فائلیں منظرِ عام پر

0
21
ڈارک ویب پر بھارتی نیوکلیئر پلانٹ کی مبینہ خفیہ فائلیں منظرِ عام پر

بھارت کے ریاست تامل ناڈو میں قائم کوڈن کولم نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق حساس دستاویزات مبینہ طور پر ڈارک ویب پر سامنے آگئی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، رینسم ویئر گروپ “ورلڈ لیکس” نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یہ معلومات ریلائنس انفراسٹرکچر سے وابستہ ڈیٹا سے حاصل کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افشا ہونے والی فائلوں میں پلانٹ کے بعض تعمیراتی نقشے، سپلائرز کی معلومات، معائنوں کے ریکارڈ، میٹنگز کی تفصیلات، آلات سے متعلق دستاویزات اور انشورنس ریکارڈ شامل ہیں۔ تاہم رائٹرز نے واضح کیا ہے کہ وہ ان تمام دستاویزات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
ریلائنس انفراسٹرکچر نے تصدیق کی ہے کہ اس کے ایک تھرڈ پارٹی ڈیٹا سروس فراہم کنندہ کے سرور پر غیر مجاز رسائی کا واقعہ پیش آیا تھا اور اس بارے میں متعلقہ حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ کون سا ڈیٹا متاثر ہوا۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس نوعیت کی معلومات درست ثابت ہوں تو ان سے اہم تنصیبات کے انفراسٹرکچر، سپلائی چین اور سیکیورٹی انتظامات کے بارے میں حساس معلومات سامنے آسکتی ہیں، جو مستقبل میں خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق لیک ہونے والی دستاویزات کا تعلق جوہری ری ایکٹر کے بنیادی یا کور سسٹم سے نہیں ہے، کیونکہ وہ روسی ادارے روسیٹم کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ البتہ بعض فائلوں میں زیر تعمیر یونٹس کے وینٹیلیشن، کولنگ سسٹمز اور مشترکہ کنٹرول روم سے متعلق معلومات موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
یوٹا نامی کمپنی، جو متعلقہ سرورز کی دیکھ بھال کرتی ہے، کا کہنا ہے کہ مئی کے آخر میں مشکوک سرگرمی کا سراغ لگنے پر فوری کارروائی کی گئی اور ممکنہ رینسم ویئر حملے کو روک دیا گیا۔ بعد ازاں ریلائنس انفراسٹرکچر نے انہیں بتایا کہ ہیکرز ڈیٹا حاصل کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ کمپنی کے مطابق ان دعوؤں کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب بھارتی ایٹمی توانائی کے حکام، وزیراعظم کے دفتر اور مبینہ ہیکرز گروپ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اہم تنصیبات کی سائبر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ یاد رہے کہ 2019 میں بھی کوڈن کولم نیوکلیئر پاور پلانٹ پر سائبر حملے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم اس وقت حکام نے کہا تھا کہ پلانٹ کا بنیادی آپریشنل نظام محفوظ رہا تھا۔

Leave a reply