اسٹنٹ لگوانے کے بعد بھی دل کا دورہ پڑ سکتا ہے؟ ماہرین نے اہم حقائق بتا دیے

0
32
اسٹنٹ لگوانے کے بعد بھی دل کا دورہ پڑ سکتا ہے؟ ماہرین نے اہم حقائق بتا دیے

دل کی شریان میں اسٹنٹ لگانا خون کی روانی بحال کرنے اور بند شریان کو کھولنے کا مؤثر طبی طریقہ ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ دل کی بیماری کا مکمل علاج نہیں بلکہ مجموعی علاج کا ایک اہم حصہ ہے۔

ماہرین امراضِ قلب کا کہنا ہے کہ اسٹنٹ صرف اس مقام پر موجود رکاوٹ کو دور کرتا ہے جہاں شریان تنگ یا بند ہو چکی ہو، لیکن شریانوں میں چکنائی جمع ہونے کے بنیادی عمل کو ختم نہیں کرتا۔ اسی وجہ سے اگر مریض اپنی ادویات باقاعدگی سے استعمال نہ کرے یا صحت مند طرزِ زندگی اختیار نہ کرے تو مستقبل میں دیگر شریانیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی، ذیابیطس پر قابو نہ رکھنا، بلند کولیسٹرول، غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور علاج میں غفلت دل کی بیماری کے دوبارہ بڑھنے کے اہم اسباب ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ بعض صورتوں میں اسٹنٹ کے اندر دوبارہ تنگی پیدا ہو سکتی ہے، جسے طبی اصطلاح میں “ری اسٹینوسس” کہا جاتا ہے۔ اگرچہ جدید دوا خارج کرنے والے اسٹنٹس نے اس خطرے کو پہلے کے مقابلے میں کم کر دیا ہے، پھر بھی کچھ مریض اس مسئلے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ایک اور نایاب مگر خطرناک پیچیدگی “اسٹنٹ تھرومبوسس” ہے، جس میں اسٹنٹ کے اندر خون کا لوتھڑا بن جاتا ہے۔ یہ صورتحال جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر مریض ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر خون پتلا کرنے والی دوائیں بند کر دے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹنٹ لگنے کے بعد بھی دل کی بیماری آگے بڑھ سکتی ہے، اس لیے مریضوں کو تجویز کردہ ادویات باقاعدگی سے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ صحت مند غذا، مناسب ورزش، وزن میں توازن، بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ اگر اسٹنٹ لگنے کے بعد سینے میں درد، سانس لینے میں دشواری، غیر معمولی پسینہ، چکر، بے ہوشی یا درد بازو، جبڑے یا کمر تک پھیلنے جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کی جائے، کیونکہ بروقت علاج جان بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اسٹنٹ دل کی بند شریان کھولنے میں مؤثر ضرور ہے، لیکن طویل مدتی دل کی صحت برقرار رکھنے کے لیے ادویات، باقاعدہ طبی معائنہ اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانا ناگزیر ہے۔

Leave a reply