
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی انٹرنیشنل بزنس مشینز (آئی بی ایم) کے حصص میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث کمپنی کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 70 ارب ڈالر تک کم ہو گئی۔
رپورٹس کے مطابق آئی بی ایم کے شیئرز ایک ہی دن میں تقریباً 25 فیصد تک گر گئے، جو کئی دہائیوں میں کمپنی کی بدترین یومیہ کارکردگی قرار دی جا رہی ہے۔ سرمایہ کاروں کی تشویش کی بڑی وجوہات میں کمپنی کے مالی نتائج، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مسابقت اور سائبر سیکیورٹی اخراجات شامل ہیں۔
آئی بی ایم نے بتایا کہ حالیہ سہ ماہی میں کمپنی کی آمدنی میں معمولی اضافہ ہوا، تاہم یہ سرمایہ کاروں کی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔ کمپنی کے سربراہ اروند کرشنا نے تسلیم کیا کہ آئی بی ایم مارکیٹ میں ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں کے مطابق خود کو مطلوبہ رفتار سے تبدیل نہیں کر سکی۔
کمپنی کے بنیادی انفراسٹرکچر کاروبار، جس میں مین فریم کمپیوٹرز شامل ہیں، کی آمدنی میں کمی دیکھی گئی، جبکہ سافٹ ویئر شعبے میں ترقی کے باوجود نتائج توقعات سے کم رہے۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے لیے درکار سرورز، میموری اور اسٹوریج آلات کی بڑھتی ہوئی طلب نے ٹیکنالوجی مارکیٹ میں ترجیحات بدل دی ہیں۔ کئی اداروں نے نئے منصوبوں کے بجائے اپنے ڈیجیٹل تحفظ اورسائبر سیکیورٹی پر زیادہ سرمایہ لگانا شروع کر دیا ہے۔
آئی بی ایم کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے ساتھ سائبر خطرات بھی پیچیدہ ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے کاروباری ادارے اپنے بجٹ کا بڑا حصہ سیکیورٹی اقدامات کے لیے مختص کر رہے ہیں۔
دوسری جانب سائبر سیکیورٹی کمپنیوں کے حصص میں اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے اس شعبے کو مستقبل کے لیے اہم قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی روایتی سافٹ ویئر کمپنیوں کے کاروباری ماڈلز پر اثر ڈال رہی ہے، جس کے باعث بڑے ٹیک اداروں کے مستقبل سےمتعلق نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
تاہم آئی بی ایم کے کچھ شعبوں نے بہتر کارکردگی بھی دکھائی۔ کمپنی کے ریڈ ہیٹ یونٹ کی آمدنی میں اضافہ ہوا، جبکہ بعض سرور اور اسٹوریج شعبوں میں بھی مثبت نتائج سامنے آئے۔
کمپنی نے اوپن سورس سافٹ ویئر سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے ایک بڑے منصوبے کا اعلان بھی کیا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر سافٹ ویئر نظام کو زیادہ محفوظ بنانا ہے۔









