اداروں سے متعلق بیان پر تنازع؛ عدالت نے مولانا فضل الرحمان کو طلب کرلیا

0
35
اداروں سے متعلق بیان پر تنازع؛ عدالت نے مولانا فضل الرحمان کو طلب کرلیا

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ایک حالیہ خطاب پر سیاسی اور قانونی ردعمل سامنے آیا ہے۔ گوجرانوالا کی عدالت میں ان کے بیان کے خلاف درخواست دائر کی گئی، جس پر عدالت نے انہیں 28 جولائی کو طلب کرلیا۔

رپورٹس کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے قصور میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران ملکی اداروں، خصوصاً سیکیورٹی اداروں، کے حوالے سے گفتگو کی تھی جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات اٹھائے گئے۔

درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ بیان سے اداروں اور شہداء کے حوالے سے عوامی جذبات متاثر ہوئے، جس کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ کو طلبی کا نوٹس جاری کیا۔

دوسری جانب مختلف سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ مذہبی رہنما حافظ طاہر اشرفی نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران سیکیورٹی اداروں اور شہداء کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی عزت اور ان کے خاندانوں کے جذبات کا خیال رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے امن کے لیے سیکیورٹی اہلکار مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں اور ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سینئر سیاسی رہنماؤں سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ احتیاط کی توقع کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق فوجی جوانوں کی قربانیوں کو کسی مالی پہلو سے جوڑنا درست نہیں۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے بھی اپنے ردعمل میں کہا کہ شہداء کی قربانیوں کا احترام قومی ذمہ داری ہے اور ایسے بیانات سے عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔

دیگر حکومتی شخصیات، جن میں عون چوہدری، طلال چوہدری، حنیف عباسی اور ملک محمد احمد خان شامل ہیں، نے بھی بیان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شہداء اور سیکیورٹی اہلکاروں کے احترام پر زور دیا۔

ادھر سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سنجیدہ سیاسی شخصیت ہیں اور خیبر پختونخوا کی صورتحال سے متعلق ان کے مؤقف کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔

اس معاملے پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے، جبکہ عدالت میں آئندہ سماعت پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔

Leave a reply