آرکٹک پر ایٹمی بم، سمندر پر ڈیم اور دوسرا چاند! دنیا بدلنے کے حیرت انگیز منصوبے

0
16
آرکٹک پر ایٹمی بم، سمندر پر ڈیم اور دوسرا چاند! دنیا بدلنے کے حیرت انگیز منصوبے

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلی اور عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کے باعث سائنس دان مختلف طریقوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ زمین پر موسمی اثرات کو کم کیا جا سکے۔ تاہم، تاریخ میں ایسے کئی غیر معمولی منصوبے بھی پیش کیے گئے جنہیں آج انتہائی جرات مندانہ یا غیر عملی تصور کیا جاتا ہے۔

1930 کی دہائی میں جرمن انجینیئر ہرمن سورگل نے “ایٹلانٹروپا” منصوبہ پیش کیا، جس کے تحت بحیرۂ روم پر ایک بڑا ڈیم تعمیر کرکے سمندر کی سطح کم کرنے اور نئی زرعی زمین حاصل کرنے کی تجویز دی گئی۔ یہ منصوبہ کئی برسوں تک زیرِ غور رہا، لیکن عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔

اسی طرح سوویت دور میں بعض انجینیئروں نے آبنائے بیرنگ پر ڈیم تعمیر کرنے یا سمندر کی تہہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانے کی تجاویز دیں تاکہ قطبی علاقوں کے درجۂ حرارت میں اضافہ کیا جا سکے۔ ان خیالات پر کئی سال تک بحث جاری رہی، مگر انہیں قابلِ عمل نہیں سمجھا گیا۔

سرد جنگ کے دور میں بعض ماہرین نے موسمی تبدیلی کے لیے ایٹمی دھماکوں کے استعمال کی تجاویز بھی دیں۔ سوویت یونین نے بعض انجینیئرنگ منصوبوں میں محدود پیمانے پر جوہری دھماکوں کے تجربات کیے، تاہم ان سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے اور تابکاری کے خطرات کے باعث ایسے منصوبے ترک کر دیے گئے۔

1990 کی دہائی میں روس نے “پروجیکٹ زنامیا” کے تحت خلا میں عکاس آئینے والے سیٹلائٹس بھیج کر رات کے وقت سورج کی روشنی زمین پر منعکس کرنے کا تجربہ کیا۔ ابتدائی آزمائش جزوی طور پر کامیاب رہی، لیکن تکنیکی اور مالی مشکلات کی وجہ سے منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔

دوسری جانب آسٹریلیا میں 1989 میں ایک تجویز سامنے آئی جس میں ملک کے اندر ہزاروں کلومیٹر طویل مصنوعی پہاڑی سلسلہ تعمیر کرنے کا تصور پیش کیا گیا تاکہ بارشوں کے نظام میں بہتری لائی جا سکے۔ بعد ازاں ماہرین نے اندازہ لگایا کہ اس منصوبے کے لیے درکار وسائل اور لاگت انتہائی غیر معمولی ہوں گے، اس لیے یہ تجویز بھی عملی شکل اختیار نہ کر سکی۔

یہ تاریخی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ انسان نے مختلف ادوار میں موسم اور ماحول کو تبدیل کرنے کے غیر روایتی طریقوں پر غور کیا، لیکن ان میں سے اکثر منصوبے تکنیکی، معاشی یا ماحولیاتی وجوہات کی بنا پر نافذ نہیں کیے جا سکے۔ آج ماہرین کی توجہ زیادہ تر ایسے سائنسی اور پائیدار حلوں پر مرکوز ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں مؤثر اور محفوظ ثابت ہوں۔

Leave a reply