
لاہور: غیر ملکی خواتین کیس میں ‘باس’ کی شناخت، آٹھ ملزمان گرفتار
لاہور: غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، زیادتی اور تاوان طلب کرنے کے مقدمے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین کی جانب سے “باس” کہلائے جانے والے شخص کی شناخت وحید کے نام سے ہوئی ہے، جو اوکاڑہ کا رہائشی ہے اور اس کے خلاف پہلے سے آٹھ مقدمات درج ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یکم جولائی کو پولیس ہیلپ لائن 15 پر بیرون ملک سے ایک شخص کارلوس کی کال موصول ہوئی، جس نے اطلاع دی کہ اس کی بیٹی پاکستان میں لاپتا ہے اور اس کی رہائی کے بدلے تاوان مانگا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں غیر ملکی خواتین جون کے آخری ہفتے میں اسلام آباد اور لاہور پہنچی تھیں۔ اطلاع ملنے کے بعد سیف سٹی کیمروں، تکنیکی ذرائع اور مختلف مقامات پر کارروائیوں کے ذریعے تحقیقات کا دائرہ لاہور سمیت دیگر شہروں تک بڑھایا گیا۔
پولیس کے مطابق پہلے چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جبکہ بعد ازاں مزید گرفتاریاں عمل میں آئیں اور اب تک مجموعی طور پر آٹھ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
ڈی آئی جی نے کہا کہ دورانِ تفتیش معلوم ہوا کہ متاثرہ خواتین کے بیانات میں جس شخص کو “باس” کہا گیا، اس کا اصل نام وحید ہے۔ خواتین کو اس کی تصویر دکھائی گئی تو انہوں نے اس کی شناخت کر لی۔
فیصل کامران کے مطابق غیر ملکی خواتین کی معاونت کے لیے متعلقہ سفارت خانوں سے رابطہ کیا گیا، خواتین پولیس افسران کو ان کے ساتھ تعینات کیا گیا اور قانونی کارروائی کے تحت ان کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ مقدمے کے ایک ملزم رضا ڈار کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس کا تعلق ایک بااثر سیاسی خاندان سے ہے، جس پر اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا گیا۔ ان کے مطابق ہدایت دی گئی کہ کیس میں قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔
ڈی آئی جی نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ پولیس نے خواتین کو بازیاب نہیں کرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اطلاع ملنے کے بعد فوری کارروائی، لوکیشن ٹریسنگ اور مختلف اداروں کے تعاون سے دونوں خواتین کو بازیاب کیا گیا۔
پریس کانفرنس کے دوران جج کے گھر پر مبینہ چھاپے سے متعلق سوال کے جواب میں فیصل کامران نے کہا کہ پولیس کسی جج کی رہائش گاہ پر کارروائی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے میں متعلقہ ایس ایچ او کو معطل کرکے محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں 2 جولائی کو درج مقدمے میں دو غیر ملکی خواتین نے متعدد افراد پر مبینہ اغوا، اجتماعی زیادتی اور تاوان طلب کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد کی روشنی میں کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔









