
فلکیات کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے تحت دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل فلکیاتی کیمرہ ایک نئی رصدگاہ میں نصب کر دیا گیا ہے، جہاں سے آئندہ کئی برسوں تک جنوبی آسمان کا مسلسل مشاہدہ کیا جائے گا۔
یہ جدید کیمرہ انتہائی اعلیٰ معیار کی تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایک ہی علاقے کی بار بار عکس بندی کر سکتا ہے۔ اس خصوصیت کی بدولت ایسے مدہم ستارے، کہکشائیں اور دیگر فلکیاتی اجسام بھی واضح طور پر ریکارڈ کیے جا سکیں گے جو پہلے دیکھنا مشکل تھے۔
ماہرین کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے اربوں ستاروں اور کہکشاؤں کا تفصیلی نقشہ تیار کیا جائے گا، جس سے کائنات کی ساخت، ارتقا اور کہکشاؤں کی تشکیل کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔
اس منصوبے کے تحت رصدگاہ تقریباً دس سال تک ہر رات آسمان کی سینکڑوں تصاویر جمع کرے گی۔ حاصل ہونے والا ڈیٹا دنیا بھر کے سائنس دانوں کے لیے دستیاب ہوگا تاکہ وہ مختلف فلکیاتی تحقیقات میں اسے استعمال کر سکیں۔
ابتدائی آزمائشی مشاہدات کے دوران کئی خوبصورت نیبیولا اور دور دراز فلکیاتی اجسام کی تصاویر بھی حاصل کی جا چکی ہیں، جنہوں نے اس جدید نظام کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ مشاہدات نہ صرف کہکشاؤں کے ارتقا کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیں گے بلکہ کائنات میں موجود ڈارک میٹر اور دیگر پراسرار مظاہر پر تحقیق کے نئے امکانات بھی پیدا کریں گے۔








