آئی فون 18 پرو کے پرزوں اور سپلائرز سے متعلق حساس معلومات لیک

0
23
آئی فون 18 پرو کے پرزوں اور سپلائرز سے متعلق حساس معلومات لیک

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ایپل کے آنے والے ممکنہ ماڈل آئی فون 18 پرو سے متعلق کچھ حساس تکنیکی معلومات اور سپلائی چین کی تفصیلات انٹرنیٹ کے غیر معروف حصوں میں لیک ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ معلومات ایک بڑے سائبر حملے کے بعد منظر عام پر آئیں، جس میں ایپل کی ایک بھارتی سپلائر کمپنی کے ڈیٹا سسٹم کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کے بعد مبینہ طور پر بڑی تعداد میں فائلیں چوری ہوئیں جن میں مختلف پرزوں، مینوفیکچرنگ تفصیلات اور سپلائرز سے متعلق معلومات شامل تھیں۔
ذرائع کے مطابق ان فائلوں میں مستقبل میں متوقع آئی فون ماڈل کے کچھ پرزوں اور ان کے ممکنہ سپلائرز کے درمیان روابط کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ایسی تصاویر بھی سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جن میں ڈیوائس کی جانچ یا ٹیسٹنگ کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیک ہونے والی معلومات سے کمپنی کے پیچیدہ عالمی سپلائی نیٹ ورک کے بارے میں اہم تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں، جو عام طور پر عوامی سطح پر ظاہر نہیں کی جاتیں۔ اس صورتحال سے نہ صرف تجارتی راز متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے بلکہ اس سے مارکیٹ میں مسابقتی فائدہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ متاثرہ بھارتی کمپنی ایپل کے لیے مختلف پرزوں کی تیاری اور بعض صورتوں میں اسمبلنگ کے عمل میں بھی شامل ہے، اور حالیہ برسوں میں یہ کمپنی ایپل کے اہم شراکت داروں میں شامل ہو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق متعلقہ کمپنی اور ایپل دونوں کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ طور پر کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب سائبر حملہ آور گروپ نے اس ڈیٹا کو آن لائن شیئر کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی لیکس سے نہ صرف کمپنی کی سیکیورٹی پالیسیوں پر سوال اٹھتے ہیں بلکہ عالمی سپلائی چین کی حساسیت بھی اجاگر ہوتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹیکنالوجی کمپنیوں کا انحصار مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے مینوفیکچرنگ نیٹ ورک پر بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایپل مستقبل میں اپنی پیداوار کا بڑا حصہ بھارت منتقل کرنے کی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے، جس سے وہاں آئی فون کی تیاری میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب عالمی ٹیکنالوجی انڈسٹری میں سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا پروٹیکشن کے حوالے سے خدشات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

Leave a reply