بریک اپ اب پروفیشنل کام؟ غیر معمولی جاب آفر نے بحث چھیڑ دی

0
13
بریک اپ اب پروفیشنل کام؟ غیر معمولی جاب آفر نے بحث چھیڑ دی

دنیا بھر میں آن لائن ڈیٹنگ سروس فراہم کرنے والی ایک کمپنی نے ایک غیر معمولی اور منفرد عہدے کا اعلان کیا ہے، جس نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر لی ہے۔ کمپنی ”چیف بریک اپ آفیسر“ کے نام سے ایک ایسی ملازمت کے لیے افراد کو تلاش کر رہی ہے جس میں لوگوں کو ان کے تعلقات ختم کرنے کے عمل میں مدد فراہم کی جائے گی۔

کمپنی کے مطابق اس عہدے پر کام کرنے والے شخص کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ان افراد کی جانب سے رابطہ کرے جنہوں نے رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ تو کر لیا ہوتا ہے مگر خود یہ بات کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ منتخب امیدوار کو فون یا دیگر ذرائع کے ذریعے شائستہ اور ہمدردانہ انداز میں بریک اپ کا پیغام پہنچانا ہوگا۔

اس ملازمت کے لیے امیدوار میں بہترین کمیونیکیشن سکلز، دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت اور جدید تعلقات کی نوعیت سے واقفیت ضروری قرار دی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ درخواست دہندگان کے لیے یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ انہیں ذاتی زندگی میں کم از کم تین بار بریک اپ کا تجربہ ہو، تاکہ وہ جذباتی صورتحال کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

کمپنی کے مطابق اس سروس کا مقصد ایسے رویے کو کم کرنا ہے جس میں لوگ تعلق ختم کرنے کے بعد اچانک غائب ہو جاتے ہیں یا کسی قسم کی وضاحت نہیں دیتے، جسے عام طور پر ”گھوسٹنگ“ کہا جاتا ہے۔

ادارے کی ایک ماہر کے مطابق اگرچہ بہتر یہی سمجھا جاتا ہے کہ لوگ خود ایک دوسرے سے براہ راست بات کریں، تاہم بعض حالات میں تیسرے فریق کے ذریعے واضح پیغام دینا زیادہ بہتر ثابت ہو سکتا ہے تاکہ دوسرا فرد غیر یقینی کیفیت کا شکار نہ رہے۔

دوسری جانب ماہرینِ تعلقات اس تصور پر مختلف آراء رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رشتہ ختم کرنا صرف ایک پیغام پہنچانے کا عمل نہیں بلکہ اس میں جذباتی ذمہ داری، احترام اور براہ راست گفتگو بھی شامل ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے کام کسی اور کے سپرد کرنے سے لوگ خود مشکل گفتگو کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو سکتے ہیں۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر کسی تعلق میں تشدد، دباؤ یا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں تیسرے فریق کی مدد لینا قابلِ فہم ہو سکتا ہے، لیکن عام حالات میں براہ راست رابطہ زیادہ صحت مند طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ منفرد جاب اگرچہ حیران کن ہے، لیکن اس نے جدید دور میں تعلقات، رابطے کے انداز اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار پر ایک نئی بحث ضرور شروع کر دی ہے۔

Leave a reply