
کراچی میں پاکستان نیول اکیڈمی پی این ایس رہبر میں 125ویں مڈشپ مین اور 33ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
تقریب میں پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے وزیراعظم کا استقبال کیا جبکہ انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس نے وطن کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر بحری راستوں کا امن اور سمندری نقل و حرکت کی آزادی آج کے دور کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے، کیونکہ عالمی تجارت اور معیشت کا انحصار سمندری راستوں کی حفاظت پر ہے۔ ان کے مطابق اگر بحری گزرگاہیں غیر محفوظ ہوں تو عالمی سپلائی چین بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن کے فروغ کے لیے کردار ادا کر رہا ہے اور ملک دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ وزیراعظم نے پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نیوی قومی دفاع کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ حالیہ علاقائی حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سمندری راستوں کی حفاظت عالمی سطح پر مزید اہم ہو چکی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزادانہ بحری نقل و حرکت کسی سہولت کے بجائے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ مسلح افواج خصوصاً نیوی نے مختلف چیلنجز میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔
تقریب کے دوران وزیراعظم نے مختلف ممالک سے آئے ہوئے کیڈٹس کی شرکت کو سراہا اور کہا کہ دوست ممالک کے نوجوانوں کی پاکستان میں تربیت دفاعی تعاون کو مضبوط بناتی ہے۔
اس موقع پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے کیڈٹس میں اعزازات بھی تقسیم کیے گئے۔ بہترین کارکردگی پر عمر مختار کو اعزازی شمشیر دی گئی، جبکہ مختلف کیڈٹس کو گولڈ میڈلز سے نوازا گیا۔
تقریب میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے بھی شرکت کی۔









