راجستھان میں تاریخی قدم: 13 سالہ لڑکی خاندان کی وارث مقرر

0
36
راجستھان میں تاریخی قدم: 13 سالہ لڑکی خاندان کی وارث مقرر

بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع پالی میں ایک غیر معمولی اور تاریخی روایت سامنے آئی ہے جہاں پہلی بار ایک 13 سالہ لڑکی کو ایک روایتی شاہی طرز کے خاندان کی باقاعدہ وارث مقرر کر دیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس خطے میں صدیوں سے جائیداد اور خاندانی قیادت صرف مردوں تک محدود رہی ہے۔

یہ تقریب 17ویں صدی کے تاریخی مقام کھیروا گڑھ قلعہ میں منعقد ہوئی جس میں بڑی تعداد میں مقامی افراد نے شرکت کی۔ رسم کے دوران روایتی مذہبی انداز اپنایا گیا اور خاندان کی نئی سربراہ کو باقاعدہ طور پر سب کے سامنے پیش کیا گیا۔

متوفی والد ہریش چندر جودھا کے بعد ان کی بیٹی تیجسوی کماری جودھا کو خاندان کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس موقع پر انہیں روایتی انداز میں پگڑی پہنائی گئی جو اس بات کی علامت سمجھی جاتی ہے کہ اب وہ سوگ کے مرحلے سے نکل کر خاندانی سربراہی سنبھال رہی ہیں۔ ان کے ماتھے پر تلک بھی لگایا گیا اور رسمی طور پر قیادت کی چابی انہیں دی گئی۔

یہ پگڑی جودھپور کے سابق شاہی خاندان کی جانب سے بھی بھیجی گئی، جو اس علاقے کی تاریخی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے کیونکہ یہ خطہ ماضی میں جودھپور ریاست کا حصہ رہا ہے۔

مقامی عمائدین کے مطابق چونکہ مرحوم کے کوئی بیٹا موجود نہیں تھا، اس لیے خاندان اور گاؤں کے لوگوں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا۔ تقریباً 65 سال بعد اس خاندان میں یہ رسم دوبارہ ادا کی گئی، اور پہلی بار کسی خاتون کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔

علاقہ مکینوں نے اس اقدام کو مثبت تبدیلی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے روایتی نظام میں بھی ایک نئی سوچ اور توازن پیدا ہوا ہے، جبکہ پرانی ثقافتی رسومات بھی برقرار رکھی گئی ہیں۔

تیجسوی کماری جودھا نے کہا کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھیں گی اور ساتھ ہی خاندانی ذمہ داریوں کو بھی نبھائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کے اس خواب کو آگے بڑھائیں گی جو انہوں نے گاؤں کی ترقی اور بہتری کے لیے دیکھا تھا۔

Leave a reply