ٹیلی کام بل تنازع: شزا فاطمہ کے استعفے کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے؟

0
21
ٹیلی کام بل تنازع: شزا فاطمہ کے استعفے کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے؟

پاکستان میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے پیش کیے گئے ’’پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026‘‘ کی ایک متنازع شق پر سیاسی، قانونی اور عوامی حلقوں میں بحث جاری ہے۔
تنازع بل میں شامل مجوزہ شق 27-بی کے گرد گھوم رہا ہے، جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کی موجودہ زبان نجی جائیداد کے حقوق پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ مختلف سیاسی رہنماؤں، سینیٹرز، ماہرین اور صحافیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر قانون کی وضاحت نہ کی گئی تو ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب کے نام پر شہریوں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
تنقید کرنے والوں کے مطابق مجوزہ شق کے تحت اگر کوئی فرد، ادارہ یا جائیداد کا مالک فائبر کیبل بچھانے، موبائل ٹاور نصب کرنے یا دیگر ٹیلی کام سہولیات کے لیے رسائی دینے سے انکار کرے یا رکاوٹ پیدا کرے تو اس پر بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس سے نجی ملکیت کے تحفظ سے متعلق آئینی اصولوں پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت زیادہ نمایاں ہوا جب مختلف صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے بل کی بعض شقوں پر عوامی سطح پر بحث شروع کی۔ سوشل میڈیا پر بھی اس قانون کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا۔
دوسری جانب حکومت اور ٹیلی کام شعبے کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ بل کا مقصد کسی کی نجی جائیداد پر قبضہ کرنا نہیں بلکہ ملک بھر میں انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک کی توسیع میں حائل انتظامی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ ان کے مطابق فائبر نیٹ ورک اور مستقبل کی فائیو جی خدمات کے لیے ’’رائٹ آف وے‘‘ سے متعلق مسائل طویل عرصے سے ٹیلی کام سیکٹر کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
وزارتِ آئی ٹی کے حکام نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ قانون بنیادی طور پر سرکاری اداروں اور مختلف محکموں کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کو حل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ انفراسٹرکچر منصوبوں میں تاخیر کم ہو سکے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے ارکان نے بل کی بعض شقوں پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے مزید وضاحت اور تحفظات دور کرنے کا مطالبہ کیا۔ کمیٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ قانون کی زبان ایسی ہونی چاہیے جس سے عام شہریوں کے جائیداد کے حقوق مکمل طور پر محفوظ رہیں اور کسی بھی قسم کے ابہام کی گنجائش نہ ہو۔
ٹیلی کام صنعت کے نمائندوں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ قانون کے الفاظ کو مزید واضح بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی خدشات دور کیے جا سکیں اور اصل مقصد یعنی بہتر انٹرنیٹ سہولیات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نجی جائیدادوں پر زبردستی قبضے یا ٹاورز کی تنصیب کی حمایت نہیں کرتی۔ ان کے مطابق نجی املاک پر کسی بھی قسم کا کام متعلقہ قوانین، باہمی رضامندی اور قانونی معاہدوں کے تحت ہی کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن شقوں سے غلط فہمی پیدا ہو رہی ہے، ان کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔
عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے بعد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بل کی منظوری مؤخر کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ اجلاس میں اس کی شقوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ شہریوں کے بنیادی اور جائیدادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

Leave a reply