امریکا اور ایران کے تعلقات میں نئی پیش رفت، مذاکراتی عمل دوبارہ شروع

واشنگٹن/تہران: امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور اہم تنازعات کے حل کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام ایک نئے مذاکراتی عمل کے سلسلے میں سوئٹزرلینڈ پہنچ رہے ہیں، جہاں مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بات چیت متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی اور لبنان کی صورتحال کے باعث مذاکراتی عمل میں عارضی رکاوٹ پیدا ہوئی تھی، تاہم جنگ بندی کی کوششوں اور سفارتی رابطوں کے بعد بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
دوسری جانب متعلقہ فریقین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی پیش رفت کا انحصار تمام شرکاء کی جانب سے طے شدہ شرائط اور وعدوں کی پاسداری پر ہوگا۔ بعض حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی دوبارہ بڑھی تو مذاکراتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کے تناظر میں یہ سفارتی کوششیں اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مذاکرات کو ہی مؤثر راستہ سمجھا جا رہا ہے۔
سوئس حکام نے بھی اس عمل میں سہولت کاری کے عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ فریقین کے درمیان رابطوں کو آسان بنانے کے لیے ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں ہونے والی ملاقاتیں اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا موجودہ سفارتی کوششیں کسی دیرپا معاہدے کی صورت اختیار کر پاتی ہیں یا نہیں۔









