
گلگت بلتستان میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان تعاون پر اتفاق ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی ن لیگ کی حمایت سے حکومت قائم کرے گی، جبکہ مسلم لیگ (ن) کابینہ میں شامل ہوئے بغیر سیاسی تعاون فراہم کرے گی۔
اطلاعات کے مطابق طے پانے والے فارمولے کے تحت وزیراعلیٰ کا منصب پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس ہوگا، جبکہ گورنر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدے مسلم لیگ (ن) کو دیے جائیں گے۔
حکومت سازی کے عمل اور آئندہ سیاسی حکمتِ عملی پر غور کے لیے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی رہنماؤں اور پارلیمانی ارکان کا اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں اہم فیصلوں پر مشاورت کی جائے گی۔
پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے بھی میڈیا سے گفتگو میں دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والے اتفاق کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) حکومت کا حصہ نہیں بنے گی، تاہم وہ حکومت کے قیام میں حمایت فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق اہم آئینی اور انتظامی عہدوں کی تقسیم کے حوالے سے بھی اتفاق رائے موجود ہے۔
دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے حالیہ انتخابات میں پیپلزپارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا، جہاں پارٹی 11 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ انہوں نے گلگت بلتستان اور پیپلزپارٹی کے درمیان تاریخی اور سیاسی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے عوام ہمیشہ قومی یکجہتی اور حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق اور سیاسی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے عوام کا پارٹی کے ساتھ گہرا تعلق قائم ہے۔









