
ماہرینِ صحت کے مطابق گرمی کے موسم میں رات کے وقت آئس کریم یا زیادہ میٹھی اور چکنائی والی غذاؤں کا استعمال نیند کے معیار اور اگلے دن ذہنی کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئس کریم میں چینی اور چکنائی کی زیادہ مقدار ہونے کی وجہ سے خون میں شوگر کی سطح تیزی سے بڑھتی ہے، جس کے بعد انسولین کے اخراج کے باعث یہ سطح اچانک کم بھی ہو سکتی ہے۔ اس غیر متوازن تبدیلی سے نیند کے قدرتی نظام میں خلل پڑنے کا امکان رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق رات کے وقت جسم ہاضمے اور آرام کی حالت میں ہوتا ہے، جبکہ بھاری یا میٹھی غذائیں ہاضمے کے عمل کو زیادہ متحرک کر دیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں نیند بار بار متاثر ہو سکتی ہے اور صبح اٹھنے پر سستی، تھکن اور توجہ میں کمی جیسی علامات محسوس ہو سکتی ہیں، جسے عام طور پر “برین فوگ” کہا جاتا ہے۔
صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ نیند کے دوران جسم میں مختلف ہارمونز توازن برقرار رکھنے اور آرام میں مدد دیتے ہیں، تاہم دیر سے کھانے کی عادت اس قدرتی عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔
ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ رات کا کھانا سونے سے کم از کم دو سے تین گھنٹے پہلے کھا لیا جائے اور رات دیر سے میٹھی یا بھاری اشیاء کے استعمال سے پرہیز کیا جائے۔ اگر بھوک محسوس ہو تو ہلکی غذائیں جیسے دہی یا خشک میوہ جات بہتر متبادل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دن کے وقت متوازن غذا اور کھانے کے اوقات کی باقاعدگی نہ صرف بہتر نیند میں مدد دیتی ہے بلکہ مجموعی صحت اور ذہنی کارکردگی پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔









