
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ابتدائی دنوں میں ہی ایک اہم تنازع سامنے آگیا ہے۔ گروپ بی میں سوئٹزرلینڈ اور قطر کے درمیان ہونے والے مقابلے میں دیا گیا پنالٹی فیصلہ شائقین، مبصرین اور سابق فٹبالرز کے درمیان بحث کا موضوع بن گیا۔
واقعہ میچ کے 14ویں منٹ میں پیش آیا جب سوئٹزرلینڈ کے مڈفیلڈر ریمو فریولر قطر کے گول کیپر محمود ابو ندا سے باکس کے اندر رابطے کے بعد گر گئے۔ ریفری نے فوری طور پر پنالٹی کا اعلان کیا، جبکہ وی اے آر نے جائزے کے بعد بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔ بعد ازاں بریل ایمبولو نے پنالٹی کو گول میں تبدیل کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلا دی۔
تنازع کی اصل وجہ فاؤل کا فیصلہ نہیں بلکہ اس سے قبل ممکنہ آف سائیڈ کی صورتحال بنی۔ متعدد ری پلے دیکھنے والے مبصرین کا خیال تھا کہ فریولر شاید آخری دفاعی کھلاڑی سے آگے تھے، تاہم وی اے آر کی جانب سے استعمال ہونے والی سیمی آٹومیٹڈ آف سائیڈ گرافکس ناظرین کو دکھائی نہیں گئیں، جس کے باعث شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا۔
انگلینڈ کے سابق فٹبالر گیری نیویل نے نشریات کے دوران اس معاملے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر آف سائیڈ کا جائزہ لیا گیا تھا تو متعلقہ گرافکس عوام کے سامنے پیش کی جانی چاہیے تھیں تاکہ فیصلہ مکمل طور پر شفاف نظر آئے۔
سابق انگلش اسٹرائیکر ایان رائٹ نے بھی اسی نوعیت کے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں آف سائیڈ فیصلے کی بصری وضاحت نہ ہونا حیران کن ہے۔
تنقید بڑھنے پر فیفا نے وضاحتی بیان جاری کیا۔ عالمی فٹبال تنظیم کے مطابق میچ کے دوران ایک مختصر تکنیکی مسئلہ پیش آیا جس کی وجہ سے آن سائیڈ یا آف سائیڈ اینیمیشن بروقت تیار نہیں ہوسکی۔ فیفا کا کہنا تھا کہ خرابی جلد دور کردی گئی اور اس کا وی اے آر کے فیصلہ سازی کے عمل پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
فیفا نے مزید وضاحت کی کہ وی اے آر حکام کے پاس تمام ضروری ٹیکنالوجی دستیاب تھی اور جائزے کے دوران حملہ آور کھلاڑی کو آف سائیڈ پوزیشن میں نہیں پایا گیا، اسی بنیاد پر آن فیلڈ فیصلہ برقرار رکھا گیا۔
اگرچہ فیفا نے معاملے کی وضاحت پیش کردی ہے، لیکن سوشل میڈیا اور فٹبال حلقوں میں اس فیصلے پر بحث اب بھی جاری ہے، اور متعدد شائقین مزید بصری شواہد سامنے لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔









