
عالمی شہرت یافتہ لگژری گھڑی ساز کمپنی رولیکس نے رواں سال دوسری مرتبہ اپنی سونے سے تیار کردہ گھڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر سونے کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتیں اور امیر خریداروں کی مضبوط طلب ہے۔
اطلاعات کے مطابق حالیہ اضافے کے بعد رولیکس کی سونے کی گھڑیوں کی قیمتوں میں اوسطاً تقریباً پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ نئی قیمتیں امریکہ، برطانیہ، ہانگ کانگ اور دیگر اہم عالمی مارکیٹوں میں نافذ کی جا چکی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ دنیا کے مختلف ممالک میں مہنگائی کے باعث متوسط طبقے کی خریداری کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے، تاہم انتہائی مالدار صارفین اب بھی قیمتی گھڑیوں کو ایک محفوظ اور پرکشش سرمایہ کاری تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لگژری گھڑیوں کی فروخت پر قیمتوں میں اضافے کے باوجود نمایاں منفی اثرات نہیں دیکھے جا رہے۔
رولیکس کی حریف کمپنی کارٹیئر نے بھی حال ہی میں اپنی بعض سونے کی گھڑیوں کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا تھا۔ صنعت سے وابستہ اداروں کا کہنا ہے کہ قیمتی دھاتوں کی بلند قیمتیں اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ لگژری مصنوعات کی لاگت میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق 2024 کے بعد عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی معروف گھڑی ساز برانڈز اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس دوران متعدد لگژری کمپنیوں کی سونے کی گھڑیوں کی قیمتوں میں اوسطاً چار سے چھ فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔
مارکیٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ لگژری برانڈز اب زیادہ توجہ ایسے صارفین پر مرکوز کر رہے ہیں جو مہنگی اور محدود تعداد میں دستیاب مصنوعات خریدنے کی مالی استطاعت رکھتے ہیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت سونے اور دیگر قیمتی دھاتوں سے تیار کردہ ماڈلز کو زیادہ فروغ دیا جا رہا ہے۔
کچھ مخصوص ماڈلز کی قیمتوں میں اضافہ عمومی شرح سے بھی زیادہ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق رولیکس کے بعض مقبول ماڈلز گزشتہ دو برسوں میں نمایاں حد تک مہنگے ہوئے ہیں، جس کی بڑی وجہ طلب میں اضافہ اور محدود سپلائی ہے۔
دوسری جانب سوئٹزرلینڈ سے برآمد ہونے والی مہنگی گھڑیوں کی مالیت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعلیٰ قیمت والے ماڈلز کی عالمی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے اور لگژری گھڑیوں کا شعبہ مجموعی برآمدات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
صنعتی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر سونے کی عالمی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہیں اور امیر خریداروں کی دلچسپی میں کمی نہ آئے تو آنے والے مہینوں میں رولیکس سمیت دیگر لگژری گھڑی ساز کمپنیوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔









