
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 26-2025 کا اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی معیشت نے گزشتہ سال کے دوران متعدد شعبوں میں مثبت پیش رفت کی، تاہم بعض بنیادی اقتصادی مسائل اب بھی موجود ہیں۔
اقتصادی سروے کے مطابق ملکی معیشت کی مجموعی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال کے 3.2 فیصد کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ صنعتی اور خدمات کے شعبوں میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی جبکہ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 6.1 فیصد اضافہ ہوا، جو حالیہ برسوں کی بہترین کارکردگی قرار دی جا رہی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق خدمات کے شعبے نے 4.9 فیصد ترقی کی، جبکہ 22 میں سے 16 صنعتی شعبوں نے مثبت نتائج دیے۔ سیمنٹ، کھاد، موبائل فون اور پیٹرولیم مصنوعات کی طلب میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
اقتصادی سروے میں بتایا گیا کہ ترسیلات زر، زرمبادلہ کے ذخائر، آئی ٹی برآمدات اور ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ حکومت کے مطابق ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں رہا جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے موصول ہونے والی ترسیلات زر نے معیشت کو سہارا دیا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور جون کے اختتام تک ان کے 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ آئی ٹی برآمدات بھی مالی سال کے اختتام تک تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ٹیکس وصولیوں کے حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ دو برسوں کے دوران ٹیکس ریونیو میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے سیمنٹ اور چینی کے شعبوں سے اضافی محصولات حاصل کیے گئے ہیں، جبکہ اس نظام کو دیگر صنعتوں تک بھی توسیع دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب زرعی شعبہ توقعات کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکا اور اس کی شرح نمو 2.8 فیصد رہی۔ مجموعی برآمدات میں بھی مطلوبہ اضافہ نہیں ہو سکا۔ حکومت کے مطابق چاول اور فوڈ سیکٹر کی برآمدات میں کمی نے مجموعی برآمدی کارکردگی کو متاثر کیا۔
سروے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ مہنگائی کے بیرونی اثرات اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں عوام کے لیے بدستور ایک بڑا چیلنج ہیں۔ ملکی قرضوں کا حجم بھی جی ڈی پی کے تقریباً 68.5 فیصد کے برابر برقرار ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عالمی اور علاقائی مشکلات کے باوجود پاکستان کی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں ملک کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو پائیدار ترقی کے لیے برآمدات پر مبنی معیشت کی جانب بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ ملک کی برآمدات کا حجم اب بھی مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکا۔
انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے اور قومی سطح پر مثبت سوچ اور طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ :::









