راولاکوٹ میں صورتحال قابو میں، سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری

0
1
راولاکوٹ میں صورتحال قابو میں، سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری

 کالعدم تنظیم جے اے اے سی کے مسلح کارکن راولاکوٹ کے گردونواح میں موجود ہیں۔ وہ ہتھیاروں اور ڈنڈوں کے ساتھ گزشتہ رات راولاکوٹ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے تاہم آزاد کشمیر پولیس اور ایف سی نے انہیں مؤثر طور پر پیچھے دھکیل دیا۔ نتیجتاً جے اے اے سی کا ایک گروہ بھمبر واپس چلا گیا۔

 مجموعی صورتحال کشیدہ مگر قابو میں ہے اور حکومت نے جے اے اے سی کے خطرے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ ابتدائی اقدام کے طور پر اکتوبر 2025 کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات میں ملوث جے اے اے سی ارکان کے خلاف واپس لی گئی 117 ایف آئی آرز دوبارہ بحال کر دی گئی ہیں جبکہ مذاکرات کے دوران دی جانے والی دیگر رعایتوں پر بھی نظرِ ثانی جاری ہے۔

 جاری احتجاج میں ملوث جے اے اے سی ارکان کے خلاف نئی ایف آئی آرز بھی درج کی جا رہی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اب تک 400 سے زائد گرفتاریاں کی ہیں، جن میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں جنہوں نے بیان دیا ہے کہ انہیں جے اے اے سی قیادت نے گمراہ کیا تھا۔ بعض رہنماؤں نے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے خود کو پیش کر دیا ہے اور کہا ہے کہ موجودہ سرگرمیاں ان کی تائید کے مطابق نہیں ہیں۔
راولاکوٹ میں صورتحال قابو میں، سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری

جے اے اے سی کی صورتحال کے باعث آزاد کشمیر میں ضروری اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے جبکہ سیاحت کے متاثر ہونے سے مقامی معیشت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ سپلائی میں کمی کے باعث لوٹ مار کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

جے اے اے سی قیادت کے بھارت مخالف بیانات، خاص طور پر سردار امان کے بیانات، ان کے مبینہ بھارتی حمایت یافتہ ایجنڈے کو بے نقاب کرتے ہیں اور حالیہ صورتحال حکومت اور ریاست کے قانونی و اخلاقی مؤقف کی تائید کرتی ہے۔

آزاد کشمیر حکومت اور تمام فریق ایک صفحے پر ہیں۔ کسی بھی قسم کی بات چیت کی گنجائش نہیں ہے۔ والدین اور بزرگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کی رہنمائی کریں تاکہ وہ پرامن طور پر گھروں کو واپس آ کر حالات کو معمول پر لا سکیں۔

معتبر حکومتی ذرائع کے مطابق کالعدم جے اے اے سی کے مسلح عناصر سے کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ دباؤ کے تحت کسی رعایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے پہلے سے معطل ایف آئی آرز دوبارہ بحال کی جا رہی ہیں اور حالیہ جھڑپوں میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی ذمہ داری قانونی طور پر ان کی قیادت پر عائد کی جا رہی ہے۔

Leave a reply