مختصر ویڈیوز کا بڑھتا رجحان: آنکھوں اور دماغ پر ممکنہ اثرات

0
18
مختصر ویڈیوز کا بڑھتا رجحان: آنکھوں اور دماغ پر ممکنہ اثرات

ڈیجیٹل دور میں مختصر ویڈیوز، ریلز اور شارٹس نے آن لائن مواد کے استعمال کا انداز بدل دیا ہے۔ چند سیکنڈز پر مشتمل یہ ویڈیوز تیز رفتار تفریح فراہم کرتی ہیں، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد روزانہ گھنٹوں ان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس عادت کے بعض منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں، خاص طور پر آنکھوں اور ذہنی توجہ کے حوالے سے۔

ماہرین کے مطابق موبائل فون کی چھوٹی اسکرین پر مسلسل نظریں جمائے رکھنے سے آنکھوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اس دوران پلکیں کم جھپکنے کے باعث آنکھوں میں خشکی، جلن، دھندلا پن اور سر درد جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ طویل عرصے تک اسکرین کے مسلسل استعمال سے گردن اور کندھوں کے درد سمیت بینائی کے مسائل کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مختصر ویڈیوز میں تیزی سے بدلتے مناظر، روشن رنگ اور متحرک بصری اثرات دماغ اور آنکھوں کو مسلسل سرگرم رکھتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ذہنی تھکن پیدا ہو سکتی ہے اور توجہ برقرار رکھنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

تحقیق کاروں کے مطابق مسلسل مختصر ویڈیوز دیکھنے والے افراد کے لیے نسبتاً سست رفتار سرگرمیوں، جیسے کتاب پڑھنا، مطالعہ کرنا یا طویل تحریری مواد پر توجہ دینا مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ دماغ تیز رفتار بصری محرکات کا عادی ہو جاتا ہے۔

ماہرین آنکھوں کی حفاظت کے لیے چند آسان احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان میں 20-20-20 اصول شامل ہے، جس کے تحت ہر 20 منٹ بعد 20 سیکنڈ کے لیے تقریباً 20 فٹ دور کسی چیز کو دیکھا جائے۔ اس کے علاوہ درست نشست اختیار کرنا، بار بار پلکیں جھپکانا اور سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل اسکرین کا استعمال ترک کرنا بھی مفید قرار دیا جاتا ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ معلومات حاصل کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً آڈیو مواد یا پوڈکاسٹس کا استعمال کیا جائے تاکہ آنکھوں کو آرام مل سکے اور مسلسل بصری دباؤ سے بچا جا سکے۔

صحت کے ماہرین کے مطابق متوازن ڈیجیٹل عادات اپنانے سے نہ صرف آنکھوں کی صحت بہتر رکھی جا سکتی ہے بلکہ توجہ، یکسوئی اور ذہنی کارکردگی کو بھی برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Leave a reply