دنیا کا پہلا تیرتا ہوا شہر؟ ’’فریڈم شپ‘‘ منصوبہ دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا

دنیا بھر میں مستقبل کے شہروں سے متعلق نت نئے تصورات سامنے آتے رہتے ہیں، لیکن ایک ایسا منصوبہ بھی موجود ہے جو روایتی شہروں کی تعریف ہی بدل سکتا ہے۔ “فریڈم شپ” نامی یہ مجوزہ منصوبہ ایک ایسے عظیم الجثہ سمندری شہر کا تصور پیش کرتا ہے جو مستقل طور پر سمندروں میں سفر کرتا رہے گا اور ہزاروں افراد کو رہائش، روزگار اور تفریح کی سہولتیں فراہم کرے گا۔
منصوبے کے مطابق یہ تیرتا ہوا شہر تقریباً ایک میل لمبا اور 800 فٹ چوڑا ہوگا۔ اس میں رہائشی اپارٹمنٹس، تعلیمی ادارے، جدید ہسپتال، تجارتی مراکز اور تفریحی مقامات شامل ہوں گے۔ اندازوں کے مطابق یہاں بیک وقت 80 ہزار افراد موجود ہو سکیں گے جن میں مستقل رہائشی، سیاح اور عملے کے ارکان شامل ہوں گے۔
ایک چلتا پھرتا شہر
فریڈم شپ کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ دنیا بھر کے سمندروں میں مسلسل سفر کرتا رہے۔ منصوبہ سازوں کا کہنا ہے کہ یہ ہر دو سال میں زمین کا ایک مکمل چکر لگانے کی صلاحیت رکھے گا۔ اپنے غیر معمولی حجم کی وجہ سے یہ روایتی بندرگاہوں میں داخل نہیں ہو سکے گا، اس لیے مسافروں کی آمدورفت کے لیے خصوصی فیری سروس استعمال کی جائے گی۔
رہائش سے لے کر تفریح تک تمام سہولتیں
اس تیرتے ہوئے شہر میں تقریباً 50 ہزار مستقل رہائشیوں کے لیے مکانات تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ 10 ہزار تک سیاح بھی یہاں قیام کر سکیں گے۔ ان افراد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 20 ہزار کے قریب عملہ خدمات انجام دے گا۔
منصوبے میں ایک بڑا اسپورٹس اسٹیڈیم، کنونشن سینٹر، واٹر پارک، عجائب گھر، سمفنی ہال، ہوٹل، ریسٹورنٹس، شاپنگ ایریاز اور بینکنگ سہولتیں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہیلی کاپٹر آپریشنز کے لیے متعدد ہیلی پیڈز تعمیر کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
توانائی اور ماحولیات
فریڈم شپ کو توانائی فراہم کرنے کے لیے جوہری طاقت کے استعمال پر غور کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے کاربن اخراج میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ جہاز اپنے سفر کے دوران سمندری آلودگی کم کرنے کے اقدامات میں حصہ لے سکے گا۔
تین دہائیوں پرانا تصور
یہ خیال کوئی نیا نہیں۔ اس منصوبے کا ابتدائی تصور 1990 کی دہائی میں پیش کیا گیا تھا، تاہم سرمایہ کاری اور عملی مشکلات کے باعث اسے حقیقت کا روپ نہیں دیا جا سکا۔ بعد ازاں منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن مطلوبہ مالی وسائل دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے پیش رفت محدود رہی۔
اب ایک نئی انتظامی ٹیم اس منصوبے کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ منصوبے کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری حاصل ہونے کی صورت میں تعمیراتی کام انڈونیشیا کے ساحلی علاقوں میں شروع کیا جا سکتا ہے۔
معاشی نظام کیسا ہوگا؟
مجوزہ ماڈل کے تحت رہائشی اور تجارتی یونٹس فروخت یا لیز پر دیے جائیں گے۔ دکانیں، کاروباری مراکز اور دیگر سہولتیں نجی شعبے کے ذریعے چلائی جائیں گی، جبکہ انتظامیہ چند مخصوص شعبوں کی نگرانی اپنے پاس رکھے گی۔
کیا یہ خواب حقیقت بن سکے گا؟
اگرچہ فریڈم شپ ابھی تک کاغذی منصوبے کی شکل میں موجود ہے، لیکن اس کے حامی اسے مستقبل کی شہری زندگی کا ایک منفرد نمونہ قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اتنے بڑے سمندری شہر کی تعمیر تکنیکی، مالی اور قانونی اعتبار سے ایک بڑا چیلنج ہوگی، تاہم اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ انسانی تاریخ کے سب سے منفرد رہائشی منصوبوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
فی الحال دنیا اس تصور کو حقیقت بنتا دیکھنے کی منتظر ہے۔








