سعودی عرب: غیر ملکی کمپنیوں کے لیے جائیداد ملکیت کے نئے قواعد متعارف

سعودی عرب نے غیر ملکی کمپنیوں کے لیے ملک میں جائیداد خریدنے اور اس کی ملکیت رکھنے سے متعلق نئے ضوابط جاری کیے ہیں۔ وزارتِ سرمایہ کاری کی جانب سے جاری کردہ “سرمایہ کاری گائیڈ 2026” میں پہلی مرتبہ اس عمل کو تفصیل سے واضح کیا گیا ہے۔
نئی ہدایات کے مطابق وہ غیر ملکی کمپنیاں جو سعودی عرب میں براہِ راست کاروباری سرگرمی کیے بغیر جائیداد حاصل کرنا چاہتی ہیں، انہیں اپنے ملک سے کمرشل رجسٹریشن سرٹیفکیٹ فراہم کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ دستاویزات کا مستند ترجمہ اور سعودی سفارت خانے سے تصدیق بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔
قواعد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمپنی کے آئین اور دیگر قانونی دستاویزات کا عربی ترجمہ اور سفارتی تصدیق ضروری ہوگی۔ اسی طرح مجاز نمائندے کی تقرری سے متعلق ریکارڈ بھی جمع کرانا ہوگا، جسے قانونی طور پر تصدیق شدہ ہونا چاہیے۔
نئے نظام کے تحت رجسٹریشن کے لیے کسی حقیقی فرد کو پاور آف اٹارنی کے ذریعے نمائندہ مقرر کرنا لازمی ہوگا۔ اگر متعلقہ افراد کے پاس سعودی قوانین کے مطابق شناختی دستاویزات موجود نہ ہوں تو بیرون ملک سعودی مشنز کے ذریعے ڈیجیٹل شناخت حاصل کرنا ہوگی۔
مزید یہ کہ سالانہ رجسٹریشن کی تجدید صرف اسی صورت میں ممکن ہوگی جب کمپنی کے شیئر ہولڈرز یا انتظامی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہ کی گئی ہو۔
وزارت نے واضح کیا ہے کہ یہ خدمات اس کے آن لائن پلیٹ فارم پر فوری طور پر دستیاب ہیں۔
“سرمایہ کاری گائیڈ 2026” میں اس نئے نظام کے لیے ایک علیحدہ سیکشن شامل کیا گیا ہے، جس کا مقصد غیر ملکی رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری کے عمل کو زیادہ منظم اور شفاف بنانا ہے۔ اس میں جائیداد کی خرید و فروخت، انتظامی امور، بینک اکاؤنٹس کے قیام اور متعلقہ اداروں کو معلومات کی بروقت فراہمی جیسے نکات بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق یہ تبدیلیاں غیر ملکی سرمایہ کاری کے قوانین کو جدید بنانے اور انہیں موجودہ معاشی پالیسیوں سے ہم آہنگ کرنے کی ایک اہم کوشش ہیں۔









