
عالمی فٹبال قوانین بنانے والے ادارے نے کھیل کو زیادہ شفاف، تیز اور منظم بنانے کے لیے متعدد نئے قواعد متعارف کرا دیے ہیں، جن کا اطلاق آئندہ سیزن 2026-27 اور ورلڈ کپ 2026 میں بھی ہوگا۔
نئے قوانین کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی جھگڑے یا تنازع کے دوران اپنا چہرہ ہاتھ، بازو یا جرسی سے چھپا کر گفتگو کرے تو ریفری اسے ریڈ کارڈ دکھا سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نامناسب یا امتیازی زبان کے استعمال کی روک تھام بتایا گیا ہے۔
ریفری کے فیصلے کے خلاف احتجاجاً میدان چھوڑنے والے کھلاڑی کو بھی براہِ راست ریڈ کارڈ دیا جائے گا۔ اسی طرح کسی ٹیم یا آفیشل کی جانب سے کھلاڑیوں کو کھیل ترک کرنے پر اکسانے کی صورت میں سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ اگر کوئی ٹیم میچ مکمل کرنے سے انکار کرے تو اسے شکست تصور کیا جا سکتا ہے۔
وقت کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے تھرو اِن اور گول کِک پر نیا کاؤنٹ ڈاؤن سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔ ریفری پانچ سیکنڈ کی گنتی کا اشارہ دے گا اور مقررہ وقت میں کھیل دوبارہ شروع نہ ہونے پر بال مخالف ٹیم کے حوالے کی جا سکتی ہے۔
کھلاڑیوں کی تبدیلی کے عمل میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔ اب میدان سے باہر جانے والے کھلاڑی کو 10 سیکنڈ کے اندر قریبی لائن سے باہر نکلنا ہوگا۔ تاخیر کی صورت میں متبادل کھلاڑی فوری طور پر میدان میں داخل نہیں ہو سکے گا اور اگلے وقفے تک انتظار کرنا پڑے گا۔
طبی امداد سے متعلق نئے ضابطے کے تحت اگر کسی فیلڈ کھلاڑی کا علاج میدان میں کیا جاتا ہے تو کھیل دوبارہ شروع ہونے کے بعد اسے ایک منٹ تک میدان سے باہر رہنا ہوگا۔ تاہم گول کیپر اور بعض خصوصی حالات اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) کے اختیارات بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔ اب یہ صرف گول یا پنالٹی کے فیصلوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ غلط شناخت، غلط یلو کارڈ کے بعد ریڈ کارڈ کی صورتحال اور بعض دیگر واضح غلطیوں کی اصلاح میں بھی کردار ادا کر سکے گا۔
نئے قوانین کے مطابق ہر ہاف میں کھلاڑیوں کے لیے تین منٹ کا ہائیڈریشن بریک بھی لازمی ہوگا تاکہ وہ پانی پی سکیں اور مختصر آرام کر سکیں۔
گول کیپر کی انجری کے دوران بھی نیا طریقہ کار نافذ کیا گیا ہے، جس کے تحت علاج کے دوران دونوں ٹیموں کو کوچنگ بریک لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔
فٹبال حکام کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد کھیل کی رفتار برقرار رکھنا، غیر ضروری تاخیر کو کم کرنا اور ورلڈ کپ 2026 سمیت تمام بڑے مقابلوں میں شفافیت کو مزید بہتر بنانا ہے۔









