ایران معاہدے کے تناظر میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھنے کا دعویٰ

0
11
ایران معاہدے کے تناظر میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھنے کا دعویٰ

امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے دوران بعض عرب اور مسلم ممالک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے مختلف مسلم رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطے کیے اور گفتگو کے دوران اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض مواقع پر اس معاملے پر رہنماؤں کی جانب سے خاموشی بھی دیکھی گئی۔
دوسری جانب امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے پاکستان، سعودی عرب اور قطر سمیت چند ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں خطے میں پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔ تاہم ان ممالک کی حکومتوں کی جانب سے ان بیانات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران کے ساتھ مذاکرات اور خطے کی بدلتی سیاسی صورتحال کے باعث سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔
ادھر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اشارہ دیا کہ مستقبل میں ایران بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر غور کرسکتا ہے، تاہم اس حوالے سے کسی عرب یا مسلم ملک نے کھل کر حمایت یا مخالفت ظاہر نہیں کی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق بعض اسرائیلی حکام نے ایران سے ممکنہ معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ مجوزہ ڈیل میں ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل منصوبے اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں کی سرگرمیوں جیسے اہم معاملات کو مناسب اہمیت نہیں دی جارہی۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر طویل جنگ بندی نافذ ہوئی تو ایران کو معاشی اور عسکری سطح پر خود کو دوبارہ منظم کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی کوششوں سے ہونے والا کوئی بھی معاہدہ “بہترین اور مناسب” ہوگا، جبکہ مخالفین کی تنقید کو انہوں نے مسترد کردیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ کسی جامع جوہری معاہدے کے لیے وقت اور تفصیلی مذاکرات درکار ہوں گے۔

Leave a reply