تیز رفتار زندگی میں “ریٹ اسنیکنگ” سے صحت کو خطرہ

0
7
تیز رفتار زندگی میں "ریٹ اسنیکنگ" سے صحت کو خطرہ

کراچی: آج کی مصروف زندگی میں بہت سے لوگ باقاعدہ کھانے کے بجائے دن بھر تھوڑی تھوڑی دیر بعد کچھ نہ کچھ کھانے لگے ہیں، جسے ماہرین “ریٹ اسنیکنگ” کہتے ہیں۔ اس عادت میں انسان کو بھوک نہ لگنے کے باوجود مسلسل کھانے کی خواہش رہتی ہے۔
غذائیت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عادت زیادہ تر ان لوگوں میں دیکھی جاتی ہے جو کام میں مصروف رہتے ہیں، ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، اکیلا محسوس کرتے ہیں یا بس بور ہوتے ہیں۔ اکثر لوگ بھوک کے بغیر صرف دل بہلانے یا وقتی سکون کے لیے کھانا شروع کر دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ریٹ اسنیکنگ کے نتیجے میں انسان کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کتنی زیادہ مقدار میں کھا چکا ہے، کیونکہ ہر بار کھانے کی مقدار معمولی لگتی ہے۔ لیپ ٹاپ یا موبائل استعمال کرتے ہوئے کھانے سے توجہ بٹ جاتی ہے اور ضرورت سے زیادہ کھانے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
یہ عادت صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ چپس، بسکٹ، میٹھے مشروبات اور فوری تیار ہونے والی بازاری چیزیں وزن میں اضافے اور میٹابولزم کی خرابی کا سبب بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ مسلسل کھانے سے ہاضمے کے نظام کو آرام نہیں ملتا اور پیٹ پھولنا، تیزابیت اور بھاری پن جیسی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ کھانے کے مخصوص اوقات مقرر کیے جائیں اور متوازن غذا لی جائے۔ پروٹین سے بھرپور چیزیں جیسے انڈے، پنیر، دالیں، دہی اور گری دار میوے شامل کرنے سے پیٹ دیر تک بھرا رہتا ہے۔ پھل، بھنے چنے اور مکھانے بازاری سنیکس کی بہتر جگہ ہیں۔ ساتھ ہی پانی کی مناسب مقدار بھی ضروری ہے، کیونکہ اکثر جسم پیاس کو بھوک سمجھ لیتا ہے۔

Leave a reply