اسرائیل میں قبل ازوقت انتخابات کا امکان، پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے بل کی ابتدائی منظوری

اسرائیلی پارلیمنٹ نے خود کو تحلیل کرنے کے قانون کی ابتدائی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ملک میں قبل ازوقت عام انتخابات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ مجوزہ قانون کے مطابق اگر یہ تمام پارلیمانی مراحل سے منظور ہو جاتا ہے تو 90 دن کے اندر نئے انتخابات کرانا لازمی ہوں گے۔
ووٹنگ کے دوران 120 رکنی پارلیمنٹ میں سے 110 ارکان نے بل کی حمایت کی، جبکہ کسی رکن نے مخالفت نہیں کی اور باقی ارکان غیر حاضر رہے۔ بل اب مزید غور کے لیے متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے جہاں اس کی تفصیلات اور انتخابی تاریخ پر بحث ہوگی، جس کے بعد اسے حتمی منظوری کے لیے دوبارہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم Benjamin Netanyahu کو داخلی سیاسی دباؤ، غزہ میں جاری جنگ، ایران کے ساتھ کشیدگی اور کرپشن کیسز جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کی مخلوط حکومت کو مذہبی اور دائیں بازو کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے بھی دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر فوجی خدمات سے متعلق پالیسی اختلافات کے باعث اتحادی اتحاد کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے بھی حکومت کے خلاف پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی تحریک دی ہے، جبکہ بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت 7 اکتوبر 2023 کے حملوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال کی ذمہ دار ہے۔
اگر بل منظور ہو جاتا ہے تو امکان ہے کہ اسرائیل میں آئندہ عام انتخابات مقررہ مدت سے پہلے کرائے جائیں گے، جس سے ملکی سیاسی صورتحال مزید غیر یقینی ہو سکتی ہے۔









