ناروے کے اخبار کے کارٹون پر تنازع — بھارت میں ردِعمل

0
41
ناروے کے اخبار کے کارٹون پر تنازع — بھارت میں ردِعمل

ناروے کے ایک معروف اخبار میں شائع ہونے والے ایک کارٹون نے بین الاقوامی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے، جس میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو ایک ایسے کردار کے طور پر دکھایا گیا ہے جو سانپوں کے کرتب دکھانے والے کے روپ میں ہے۔ اس کارٹون میں انہیں بین بجاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ سامنے رکھی ٹوکری میں موجود ایک پائپ کو سانپ کی شکل دی گئی ہے۔

یہ کارٹون ایک رائے پر مبنی مضمون کے ساتھ شائع ہوا جس کا عنوان “ایک شاطر اور قدرے پریشان شخص” بتایا گیا ہے۔ اشاعت کے بعد یہ تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی اور اس پر مختلف حلقوں میں شدید بحث شروع ہو گئی۔

کئی صارفین نے اس کارٹون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پرانی اور روایتی مغربی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جس میں بھارت کو ماضی میں دقیانوسی انداز میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔ بعض افراد کے مطابق اس میں نوآبادیاتی دور کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ناروے کے دورے کے دوران بھارتی وزیراعظم کی ایک پریس بریفنگ میں میڈیا سے سوالات اور بھارت میں صحافت کی آزادی سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔ اس سوال کے بعد ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس نے بحث کو مزید بڑھا دیا۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے اس پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک وسیع اور متنوع جمہوری ملک ہے جہاں درجنوں زبانوں میں سینکڑوں نیوز چینلز کام کر رہے ہیں، اس لیے کسی بھی صورتحال کو محدود رپورٹس کی بنیاد پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے وزیراعظم کے پرانے بیانات کا حوالہ بھی دیا، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ دنیا اب بھارت کو روایتی تصورات کے بجائے ایک جدید اور ٹیکنالوجی سے جڑے ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

یہ تنازع اس سے پہلے بھی مختلف مواقع پر سامنے آ چکا ہے، جب یورپی اخبارات میں بھارت کی سیاست یا معیشت پر شائع ہونے والے کارٹونز پر اسی طرح کی بحث دیکھنے میں آئی تھی۔

Leave a reply