امریکی ائیرپورٹس پر میڈیکل ویڈ سے متعلق قوانین میں نرمی

0
57
امریکی ائیرپورٹس پر میڈیکل ویڈ سے متعلق قوانین میں نرمی

امریکہ میں ہوائی سفر کرنے والے مسافروں کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) نے اپنے قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے طبی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی ماریجوانا کو مخصوص شرائط کے ساتھ مقامی پروازوں میں لے جانے کی اجازت دے دی ہے۔
نئی پالیسی کے مطابق ڈاکٹر کی تجویز کردہ میڈیکل کینابس مصنوعات کو مسافر اپنے کیری آن یا چیکڈ سامان میں رکھ سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی حکومت نے ماریجوانا کو نسبتاً کم خطرناک ادویات کی فہرست میں شامل کرنے پر غور کرتے ہوئے اس کے طبی استعمال کو تسلیم کیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی مسافر کے پاس محدود مقدار میں قانونی میڈیکل ویڈ موجود ہو اور وہ ایسی ریاست میں سفر کر رہا ہو جہاں ماریجوانا کی اجازت ہے تو قانونی کارروائی کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ تاہم مختلف امریکی ریاستوں میں اس حوالے سے قوانین ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اس لیے مسافروں کو سفر سے پہلے متعلقہ ریاستوں کے ضوابط ضرور چیک کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
امریکہ کی کئی ریاستوں میں طبی یا تفریحی مقاصد کے لیے ماریجوانا قانونی ہے، لیکن وفاقی قانون کے تحت یہ اب بھی ممنوعہ اشیا میں شامل ہے۔ چونکہ ہوائی اڈوں اور فضائی سفر کے معاملات وفاقی قوانین کے تحت آتے ہیں، اس لیے مسافروں میں طویل عرصے سے اس حوالے سے بے یقینی پائی جاتی تھی۔
ٹی ایس اے حکام کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کی بنیادی ذمہ داری مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور ہتھیاروں یا دھماکہ خیز مواد جیسے خطرات کو روکنا ہے، نہ کہ منشیات کی تلاش کرنا۔ تاہم اگر چیکنگ کے دوران کوئی ایسی چیز ملتی ہے جس سے وفاقی یا مقامی قانون کی خلاف ورزی کا شبہ ہو تو اہلکار قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلع کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جن ریاستوں میں ماریجوانا قانونی حیثیت رکھتی ہے وہاں میڈیکل سرٹیفکیٹ کے ساتھ کم مقدار میں چرس رکھنے والے مسافروں کے خلاف کارروائی کا امکان بہت کم ہے، لیکن قوانین کے اختلاف کی وجہ سے احتیاط اب بھی ضروری ہے۔
اس نئی پالیسی کو امریکہ میں ماریجوانا کے بڑھتے ہوئے طبی اور سماجی قبولیت کے رجحان کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر صورت میں ماریجوانا مکمل طور پر قانونی ہو چکی ہے۔

Leave a reply